اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 367 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 367

۳۶۷ کرنے کی اجازت غالبا اس سال کے موسم کے لئے درخواست کی تھی ) ۱۰- آپ کے ۲۷ اپریل ۱۹۲۷ء وبعد کے خطوط سے آپ کے مقروض ہونے کا علم ہوتا ہے۔۲۱ اکتوبر ۱۹۲۸ء کی آپ کی تنظیمیں مرقوم ہے کہ پون سال سے آپ کسی دفتر میں کام کر رہے ہیں لیکن آپ کو معاوضہ نہیں ملا۔اور اس بارے میں دفتر کی تصدیق آپ کے وصیت کے فائل میں موجود ہے اس کا باعث صدر انجمن احمدیہ کی اپنی مالی مشکلات تھیں اور اس زمانہ میں معاوضے کئی کئی ماہ تاخیر سے ملتے تھے۔اس فائل سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی جو کچھ پونچھی جمع ہوئی تو وہ بھی خدمت سلسلہ میں صرف ہوگئی۔مثلاً علاقہ ملکانہ میں قریباً ایک سال بھر آپ جہاد تبلیغ میں مصروف رہے۔وہاں ہر ایک کو اپنا خرچ کرنا پڑتا تھا اس طرح وہاں کے اور گھر کے اخراجات میں آپ کی ساری پونچی صرف ہوگئی۔۱۹ جون ۱۹۲۹ء کی آپ کی چٹھی سے معلوم ہوتا ہے کہ تبلیغ ملکانہ کے بعد سے آپ بریکار چلے آرہے تھے۔۱۹۳۳ء میں سندھ میں آپ نے نصف سال کام کیا۔دوسرے سال آپ نے ساٹھ روپے مشاہرہ پر سات ماہ کام کیا۔لیکن علالت کے باعث آپ کو محمود آباد اسٹیٹ (سندھ سے واپس بلا لیا گیا۔۱۹۳۵ء اور ۱۹۳۶ء کے دوسالوں میں قریبا چھ ماہ اور ۱۹۳۷ء میں سندھ میں بمقام میر پور خاص تین ماہ کام کیا۔11- ۱۱- قادیان گانڈ مرتبه محترم محمد یامین صاحب تاجر مطبوعه نومبر ۱۹۲۰ء احمدی بازار کے پچپیس تاجران کے نام مع کام کے درج ہیں۔( ناموں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد مبارک کے قرب وجوار کے بازار کو احمدی بازار لکھا ہے۔وہاں درج ہے۔” بھائی عبدالرحمن صاحب۔کیک سکٹ“۔(صفحہ ۱۰۹) آپ کی دکان کے روز نامچہ سے علم ہوتا ہے کہ آپ برف سوڈا، کوکونٹ ، پیسٹری، کیک، بند، رس، ڈبل روٹی، بسکٹ اور سبزی ، پھل وغیرہ کا ملا جلا کام کرتے تھے۔پیسٹری وغیرہ کی تیاری میں آپ کی اہلیہ محترمہ مدد کرتی تھیں اور وہ اس کام سے واقف ہو گئی تھیں۔اسوقت قریب ترین ریلوے اسٹیشن ( جہاں عام آمد و رفت تھی اور امرتسر اور لاہور کے راستہ میں) بٹالہ کا ریلوے اسٹیشن تھا جو گیارہ میل کے فاصلہ پر ہے۔سارا ضلع گورداسپور اسوقت بے حد پسماندہ علاقہ تھا۔قادیان اور اس کا ماحول دیہاتی رنگ رکھتا تھا۔ضروریات کم اور محدود تھیں ان میں بہت سادگی تھی اس کا اور کئی اور مفید باتوں کا علم اس روز نامچہ سے ہوتا ہے۔سادگی دیکھئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی طرف سے جناب چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی آمد پر ۱۸ راپریل ۱۹۱۹ء اور ۱۴ را پریل ۱۹۲۰ء کو دس آنے اور آٹھ آنے کی اشیاء مہمان نوازی کے لئے خرید کی