اصحاب احمد (جلد 9) — Page 349
۳۴۹ طاقت نہیں جو اس کا گھیراؤ کرنا تو در کنار اسکا تعاقب بھی کر سکے۔اب یہ دنیا کی طاقتوں کی حدود سے آگے نکل چکی ہے۔ضیاء کی نام نہاد محافظ اسلام حکومت کے دور میں جو خدمات اسلام کے نام پر کی گئیں وہ مظالم ہیں جو اسلام پر کئے گئے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان میں کلمہ طیبہ کے بیج لگانے یا مساجد پر لکھنے اور اذان دینے اور نماز پڑھنے اور لٹریچر تقسیم کرنے اور شعائر اسلام اختیار کرنے مثلاً السلام علیکم کہنے کے جرائم کی وجہ سے احمدیوں پر سترہ سو چھتیں مقدمات دائر کئے گئے۔ایک سو اٹھارہ مساجد سے کلمہ طیبہ مٹایا گیا۔انیس مساجد سر بمہر کی گئیں۔اٹھارہ مساجد نذرآتش کی گئیں۔پچھیں احمدیوں کو شہید کیا گیا۔انہیں احمدیوں کی نعشیں قبریں اکھیڑ کر باہر پھینک دی گئیں۔کئی صد احمدی قید و بند کی صعوبتیں سالہا سال تک جھیلتے رہے ہیں۔( محترمہ بے نظیر بھٹو اوائل اگست ۱۹۹۰ ء میں عہدہ وزیر اعظم سے برطرف ہو چکی ہیں۔ہمیں ماہ پہلے برسر اقتدار آنے پر موصوفہ نے اپنے اختیار سے بالا ہو کر اور بغیر منظوری صدر پاکستان قیدیوں کی ایک کثیر تعداد قید و بند سے آزاد کر دی۔بقول اخبارات یہ جائزہ بھی نہ لیا گیا کہ ان میں سے کون سے حقیقی مجرم ہیں جن کو آزاد کرنا کسی طرح ملک کے مفاد میں نہیں۔البتہ معصوم احمدی قیدی چھ سال سے اوپر عرصہ سے قید میں ہیں۔توجہ دلانے پر بھی توجہ نہیں کی جاتی۔کیونکہ جماعت احمدیہ سے امن شکنی کا خطرہ نہیں۔) چھ سال سے زائد عرصہ سے احمدی قیدی سنت یوسفی کے مطابق عبادت و تبلیغ میں منہمک ہیں۔ان کے ذریعہ جیلوں میں بھی قیدی احمدیت قبول کر کے اس کے نور سے منور ہوتے ہیں۔۱۹۸۹ء میں ننکانہ صاحب میں ڈی۔ایس۔پی اور پولیس نے مظالم ڈھائے۔احمدی گھروں کو لٹوایا اور نذر آتش کروایا۔چک سکندر ضلع گجرات میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نے بہ معیت ایس۔پی اور ڈی۔سی ایک سو مکانات کولٹوایا۔ایک سو جانوروں کو ہلاک کیا اور احمدی احباب کو نہتا کر کے ایک دس سالہ لڑکی سمیت تین احمدیوں کو شہید کر دیا۔بعض احمدی احباب کو قید کر لیا۔مرکز ربوہ سے بہتر تاریں دیئے جانے اور وفود بھجوانے کے باوجود حکومت نے جواب تک نہیں دیا۔۱۹۹۰ء میں ایک مقدمہ تمام اہالیان ربوہ پر دائر کیا گیا۔محترم ناظر اعلیٰ صاحب و دیگر متعد د اعلی عہدہ داروں کو خصوصاً اس مقدمہ میں ملوث کیا گیا۔راولپنڈی میں خاکسار مؤلف کی موجودگی میں ایک فوجی افسر کے بیٹے کی وفات ہوئی تو قبرستان میں تدفین کی ملٹری آفیسر نے اجازت نہ دی۔ایک جمعہ پڑھ کر مسجد احمد یہ راولپنڈی سے بعض احباب نکلے تو محض ایک مولوی کی نشاندہی پر جس نے وہیں ایک موٹر سائیکل کا نمبر لکھ لیا تھا، بتانے پر کہا کہ اس احمدی نوجوان نے آدھی رات کو مجھ پر حملہ کیا