اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 334 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 334

۳۳۴ طرف نظر کی ہے۔اور آواز آئی کہ ولیم دی کانکرر۔“ بھائی جی اور مولانا در دصاحب کو حضور کی رفاقت کا ایک نہایت مبارک موقعہ نصیب ہوا۔جبکہ اس رویا کے پورا کرنے کے لئے آپ ۲ اکتو بر ۱۹۲۴ء کو صبح دس بجے ہر دو صاحبان اور خالد شیلڈرک کو لے کر السٹ لورن سٹیشن پر جا کر اترے۔وہاں سے ایک گھوڑا گاڑی لے کر ساڑھے چار میل کے فاصلہ پر بمقام پیونسی-PEUNSI۔پہنچے اور ہوٹل میں قیام کیا۔کھانا کھا کر خالد شیلڈرک سے انگلستان کے حالات حاضرہ پر بہت دیر تک گفتگو فرماتے رہے اور پھر وہاں سے خلیج پیونسی کے کنارے پہنچے۔اور ایک کشتی لے کر اس مقام کی طرف چلے جہاں ولیم دی کا نکر اترا تھا۔کشتی کو چھوڑ کر آپ قریب ہی ایک مقام پر جس کا نام الیکرسی ( لنگر گاہ) ہے کھڑے ہوئے۔گویا وہاں اترے۔اور اسی شکل و ہیئت میں ایک لکڑی پر جو ایک کشتی کی تھی دایاں پاؤں رکھ کر ایک فاتح جرنیل کی طرح آپ نے چاروں طرف نظر کی۔بھائی جی بیان کرتے ہیں کہ کہ اس وقت آپ کے چہرہ پر جلال اور شوکت تھی اور ر بودگی بھی۔پھر آپ نے خاموشی کے ساتھ دعا کی۔اس مقام کے پاس ہی ویلٹا ئیمین نام ایک برج سا ہے جس پر ایک توپ بھی رکھی ہوئی ہے۔پھر آپ نے نماز قصر کر کے پڑھی اور اس میں لمبی دعا کی۔اور زمین پر اکڑوں بیٹھ کر پتھر کے سنگریزوں کی مٹھیاں بھریں۔اور فرمایا کہ ایران کے دربار میں ایک صحابی کو مٹی دی گئی تو اس صحابی نے مبارک فال لی کہ کسری کا ملک مل گیا اور لے کر رخصت ہوا۔پھر دربار کسری کو وہم شروع ہوا اور آدمی بھیجے کہ وہ مٹی واپس لے آئیں۔مگر صحابی نے واپس نہ کی اور اس نیک مبارک فال پر اللہ تعالیٰ نے وہ سرزمین صحابہ کو دے دی۔” بھائی جی اور در دصاحب نے ان سنگریزوں کی دو دو مٹھیاں بھر کر جیب میں ڈال لیں۔حضرت اس وقت بھی دعا میں ہی گویا مصروف تھے۔اس مقام پر آپ نے کیا دعائیں کیں گو ان کی تفصیل معلوم نہیں۔لیکن صاف ظاہر ہے کہ سلسلہ کی آئندہ عظمت وشان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلال کے واحد ذریعہ احمدیت کی کامیابی کی دعائیں تھیں جن کی قبولیت میں احمدیت کا مستقبل مخفی ہے۔“ بھائی جی کہتے ہیں کہ جب حضرت اس سے فارغ ہوئے تو میرے دل میں ایک پُر زور تحریک ہوئی۔اور میں نے بہ آواز بلند حضور کو مبارکباد دی اور بہت جوش سے دو تین بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ مصرع پڑھاع وہ سچے وعدوں والا منکر کہاں کدھر ہیں