اصحاب احمد (جلد 9) — Page 249
۲۴۹ وہاں پہنچا مگر افسوس ! منشی صاحب وہاں بھی نہ ملے۔لوٹ کر پہلے مکان پر آیا، ماجرا بیان کیا تو انہوں نے کہا تو پھر وہ لمبانوالی چلے گئے ہوں گے۔وہ کدھر ہے ؟ کیونکر پہنچوں ؟ گھر والوں نے جواب دیا۔وزیر آباد یا گھڑ کو جانے والے کسی یکہ میں بیٹھ کر راہوالی کے برابر اتر جانا۔وہاں سے سیدھا راستہ لمبانوالی کو جاتا ہے یہ مقام گوجرانوالہ سے براستہ سڑک چار میل ہوگا۔میں نے ان کے بات سنی، کچھ نہ سنی اور یکوں کے اڈہ کو دوڑا جہاں ایک یکہ سواریاں لے کر روانہ ہو نکلا تھا۔میں نے دوڑ کر اس سے کہا کہ فلاں جگہ تک مجھے بھی لے چلو۔اس نے انکار کیا اور کہا کہ سواریاں پوری ہیں اور جگہ نہیں۔میں نے چونکہ ضروری جانا تھا۔کچھ خوشامد کی اور کہا کہ لگھڑ کا کرایہ لے لو اور لے چلو میں پڑی پر پی ٹکا کر ہی گذر کرلوں گا۔پیسوں کے لالچ نے اس کو کچھ مجھ پر مہربان کر دیا۔اور اس طرح میں اس یکہ میں بیٹھ کر راہوالی تک پہنچا۔یکہ سے اتر کر پیسے اس کے حوالے کر دیئے۔میری ایک کھونڈی (بانس کی لکڑی جس کا ایک سرگول مڑا ہوا تھا) یکہ بان کے ہاتھ میں تھی۔جس سے وہ گھوڑے کو مار مار کر ہانکتا آیا تھا۔بوجھ زیادہ اور گھوڑا کمزور تھا۔نیز میری خاطر وہ کچھ جلدی پہنچانے کی بھی کوشش کرتا آ رہا تھا۔پیسے دے کر میں نے اپنی لکڑی مانگی تو وہ اڑ گیا۔لکڑی اسے پسند آگئی تھی اور نیت اس کی بدل چکی تھی۔میری جلدی اور ضرورت کو اس نے بھانپ لیا تھا۔اور جانتا تھا کہ یہ شخص ایک منٹ بھی اپنا وقت ضائع نہ کرے گا۔میں لکڑی مانگوں وہ انکار کرے۔وہ وقت ایسا تھا کہ ایک منٹ کی تاخیر بھی لاکھ کروڑ لکڑی کی قیمت سے کہیں زیادہ تھی۔میری غرض اور مقصد ہی فوت ہوتا تھا۔آخر میں نے اس کشمکش میں پڑ کر اس سعادت سے محروم رہنا پسند نہ کیا اور وہ پیاری لکڑی جو عموماً سفری تنہائی میں میری رفیق اور ضرورت میں بہترین ہتھیار تھا قربان کر کے لمبانوالی کو دوڑنے لگا۔اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی۔زمین لپیٹتی گئی یا سورج ہی تھا رہا۔میں گاؤں میں پہنچا۔منشی صاحب کا مکان دریافت کر کے آواز دی۔منشی صاحب میری آواز پہچان کر ننگے سر اور ننگے پاؤں دروازہ پر آئے۔میں نے جلدی میں مقصد و غرض بتائی اور فوراً آ جانے کو کہا۔صد ہزار شاباش اور دین و دنیا میں بھلا ہو اس خوش نصیب انسان کا۔شاید ایک منٹ بھی نہ لیا ہو گا کہ پگڑی جوتی اور ایک کپڑا لے کر نکل آئے اور میرے ساتھ واپس گوجرانوالہ اسٹیشن کو دوڑنے لگے۔دونوں دوڑے اور خوب دوڑے۔واپسی پر منشی صاحب ایک پگڈنڈی کے راستہ سیدھے اسٹیشن گوجرانوالہ کو آئے اور اللہ کا احسان ہوا کہ ادھر ہم پہنچے ادھر گاڑی