اصحاب احمد (جلد 9) — Page 247
۲۴۷ وہاں متوکل کامل بھی۔علیہ الصلوۃ والسلام عنا وعن الخلق اجمعین۔آمین۔مقدمہ کرم دین کے نام سے ایک مقدمہ جماعت میں معلوم ومشہور ہے۔اس مقدمہ کے دوران میں منشی کرم علی صاحب کا تب کی شہادت کی ضرورت محسوس ہوئی۔( جو تقسیم ملک کے بعد پاکستان میں وفات پاچکے ہیں۔مؤلف ) ستمبر یا اکتو بر ۱۹۰۳ء کا ذکر ہے کہ حسب معمول نماز مغرب کے بعد حضورا اپنی کشتی نما مسجد مبارک کی بالائی چھت پر رونق افروز تھے۔دربار اپنی پوری شان اور تاب پر تھا۔کہارصحابہ اور خدام و غلام ہر طبقہ در طبقہ کے جمع تھے۔اگلے روز مقدمہ مذکور کی تاریخ پیشی تھی۔ضروریات اور انتظام سفر کے متعلق صلاح و مشورے جاری تھے کہ اچانک حضور کو کوئی خیال پیدا ہوا۔منشی کرم علی صاحب کو یا د فرمایا۔احباب نے عرض کی حضور وہ تو گوجرانوالہ گئے ہوئے ہیں۔فرمایا: ہمیں تو ان کی ضرورت ہے کل کی پیشی میں ان کی شہادت کرانے کا خیال ہے۔“ حاضرین نے عرض کیا۔حضور عشاء کا وقت ہو گیا ہے۔گاڑی کوئی جاتی نہیں۔وہ کل نہیں پہنچ سکتے۔اگلی تاریخ پر ان کی شہادت ہو جائے گی۔حضور پر نور نے پھر فرمایا۔کوئی صورت ان کے آنے کی ممکن ہو تو بہتر ہے وہ کل ہی پہنچ جائیں شاید حاکم پھر موقعہ نہ دے کیونکہ مخالفت پر تلا ہوا ہے۔“ مگر دوستوں نے پھر وہی عرض کیا جو پہلے کہہ چکے تھے۔باوجود اس کے حضور نے پھر پہلے فرمان کو دہرایا اور ضرورت کی شدت بیان فرمائی۔میں ابھی بچوں میں ہی شمار ہوا کرتا تھا۔حضور کا فرمان بار بار میرے کانوں میں بھی پڑا اور دل کے اندر بیٹھتا گیا۔بزرگوں اور دوستوں کا جواب بھی سنا اور میں اس پر غور میں مصروف تھا۔آخر تیسری مرتبہ جب حضرت نے شدت ضرورت کا اظہار فرمایا تو مجھ سے نہ رہا گیا اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ایک بات ڈال کر مجھے انشراح بخش دیا تھا۔میں نے جرأت کی اور کھڑا ہو کر عرض کیا۔حضور ! منشی کرم علی صاحب پہنچ سکتے ہیں مگر بعد دو پہر پہنچیں گے۔میرا کھڑا ہو کر حضور کا لفظ زبان پر لانا تھا کہ حضرت جو شاید پہلے ہی مجھے دیکھ رہے تھے میری طرف متوجہ ہو گئے اور ساری مجلس پر ایک سناٹا چھا گیا۔فرمایا: ہاں میاں عبدالرحمن بیان کرو کہ وہ کیسے آسکتے ہیں؟ میں نے عرض کیا ”حضور میں ابھی بٹالہ چلا چاؤں گا وہاں سے یکہ مل گیا تو بہتر ورنہ کوشش کروں گا کہ راتوں رات امرت سر پہنچ کر وہاں سے صبح کی