اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 237 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 237

۲۳۷ نہ ہی مجھ میں طاقت ہے اور نہ ہی یہ مختصر مضمون ان باتوں کا متحمل۔ورنہ حضور کے اخلاق کا یہ حصہ اور حضور کے حسن وخوبی کا یہ پہلو ضخیم کتاب بلکہ کئی مجلدات میں بھی نہیں سما سکتا۔کیونکہ اس کے مختلف پہلوؤں میں بے انداز تفاصیل اور لا تعدا د مثالیں اور واقعات موجود ہیں۔قصہ مختصر یہ کہ دل بدست آور که حج اکبر است کے مقولے کی صحیح تصویر اور عملی نقشہ آنحضرت صلی اللہ وعلیہ وسلم کے بعد اگر چہ لاکھوں کاملوں نے دنیا کے سامنے رکھا۔مگر ان سب سے بڑھ کر یہی کامل و منفر د ہستی تھی۔جس کی نظیر چودہ سو سال میں دوسری جگہ نظر نہیں آ سکتی۔پھیلاں میاں محمد دین کی والدہ کی ہمت میں مردانگی اور جو اس میں فرزانگی تھی ، بات کرنے کا طریق، مافی الضمیر کے ادا کرنے کی توفیق اس کے رفیق تھے۔اس طریق اور ایسے رنگ میں اس نے اپنی مصیبت اور درد دل کا اظہار کیا کہ حضرت کو اس کے حال پر رحم آ گیا۔حضور نے اس کی دلجوئی فرمائی۔سہارا اور تسلی دی جس سے اس کو ڈھارس بندھ گئی۔اور مقصود سے نزدیک نظر آنے لگا۔اور اب وہ دھرنا مار دھونی رما کر ہی حضور کے در پر بیٹھ گئی۔حضرت نے ان کے قیام و طعام کا انتظام فرمایا۔جسمانی علاج کے لئے حضرت نورالدین اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تاکید فرما دی اور روحانی مرض کے استیصال کی طرف حضور نے خود توجہ دینی شروع فرمائی۔اکثر ظہر کی نماز کے بعد اور پھر شام کی نماز کے بعد دربار لگتا۔میاں محمد دین کو بلوا لیا جاتا۔اور ان کو اپنے اعتراض و شبہات پیش کرنے کا موقعہ دیا جاتا جن کے جوابات سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود دیا کرتے اور میاں محمد دین کو نہایت محبت نرمی اور توجہ سے حضور سمجھایا کرتے اور ان کے ایک ایک شبہ واعتراض کا حل فرمایا کرتے۔اس سلسلہ نے طول پکڑا اور غالباً کئی ماہ تک نانے اور وقفوں کے ساتھ جاری رہا۔مگر چند ہی روز میں یہ بات کھل گئی کہ محمد دین کی نیت بخیر نہیں اور اس میں طلب حق اور تحقیق کی خواہش بھی موجود نہیں۔وہ کسی مجبوری کے ماتحت محض دفع الوقتی کرتا اور کسی موقعہ کی تاک میں رہتا ہے۔ایک بات کے متعلق وہ خود اقرار کرتا ہے کہ حل ہو گئی مگر دوسرے وقت اس پراڑ بیٹھتا۔صبح کو تسلیم کرتا مان لیتا اور شام کو انکار اور انکار پر اصرار کرنے لگتا۔بعض اوقات اتنی ضد، ہٹ اور کج بحثی پر اتر آتا کہ صاف معلوم ہوتا کہ شرارت اور خباثت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔مگر حضور مصلحت اور حکمت سے نظر انداز کر کے چشم پوشی فرماتے اور ٹال کر گفتگو روک دیا کرتے۔