اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 215 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 215

۲۱۵ مضامین جو اس جلسہ میں پڑھے گئے یا اس کے واسطے لکھے گئے۔اس میں من وعن درج کئے گئے تا کہ دنیا اس مذہبی دنگل اور میدان مقابلہ میں آنے والے سبھی کو یکجا دیکھ کر غور اور فیصلہ کر سکے۔نیز حق و باطل میں تمیز کر سکے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ تا یہ امور قرآن کریم کی عظمت اسلام کی حقانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت اور سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خدا کے مقرب و مقبول بندے اور اس کے بلائے بولنے والے اور اس کے بچے نبی ورسول ہونے کے لئے بطور شاہد قائم دائم رہیں۔حضور پرنور کا یہی وہ مضمون ہے جو اردو میں اسلامی اصول کی فلاسفی کے نام سے اور انگریزی میں ٹیچنگز آف اسلام کے سرنامہ و عنوان کے ماتحت بار ہا ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوکر دنیا جہان کی روحانی لذت وسرور کے سامان اور ہدایت کے راستہ آسان کرتا اور نہ صرف یہی بلکہ دنیا کی کئی اور زبانوں میں بھی چھپ کر شائع ہوتا چلا آ رہا ہے۔۱۹- یہ رپورٹ شائع ہوئی اور خدا کی خدائی گواہ ہے کہ ہزار ہا انسانوں نے جو کچھ جلسہ میں دیکھا اور سنا تھا وہی کچھ رپورٹ میں درج ہوا۔وہی مضامین جو نمائندگان مذہب نے لکھے اور سنائے اور پھر انہوں نے اصل یا نقل منتظمہ کمیٹی کے حوالے کئے ٹھیک ٹھیک اور باکل وہی اور بعینہ طبع ہوئے تھے ،مگر کیا کہا جائے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو اور ان کی عقل و دانش کو کہ انہوں نے رپورٹ کی اشاعت پر یہ واویلا شروع کر دیا کہ ان کے نام سے جو مضمون اس میں طبع کر دیا گیا ہے وہ درحقیقت ان کا ہے ہی نہیں۔مولوی صاحب کی غرض و غایت اس الزام تراشی سے ظاہر ہے کہ مقابلہ میں شکست کی ذلت کو جو چھپانا تھی۔حالانکہ ان کی یہ حرکت عذر گناہ بدتر از گناہ اور اپنے ہاتھوں اپنی خاک اڑانے کے مترادف تھی۔یہ امر تنتظمین سے پوشیدہ نہ تھا۔منتظمین نے مولوی صاحب کے اس واویلا اور غوغا کو درخوراعتناء ہی نہ سمجھا۔اس طرح مولوی صاحب کی پردہ داری کی بجائے اور بھی زیادہ پردہ دری ہوتی۔ورنہ اگر حقیقت یہی تھی جس کا ان کو گلہ تھا تو کیوں نہ اپنا اصل مضمون شائع کر کے منتظمین کے اس فریب اور دھو کہ کو الم نشرح کر دکھایا۔ع بریں عقل و دانش بباید گریست -۲۰ سوا می شوگن چند ر صاحب جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان نشان صداقت کے اظہار کے سامان پیدا کئے۔جلسہ کی تمام تر کاروائی کے دوران میں اور پھر رپورٹ کی اشاعت تک تو ملتے ملاتے اور آتے جاتے رہے پھر نہ معلوم وہ کیا ہوئے اور کہاں چلے گئے۔گویا خدائی قدرت کا ہاتھ انہیں