اصحاب احمد (جلد 9) — Page 202
۲۰۲ ہو گیا اور پھر کبھی آپ سے جدا نہ ہوا۔عبد کریم کو اپنا یا، نوازا اور مقام کریم پر اس کو جگہ دی۔تا مادی، سفلی اور نیچر یا نہ خیالات سے آزاد، خالی اور یک سو ہو کر اپنی قیافہ شناس نظر اور دور بین نگاہوں سے اس نور الہی ، مظہر خدا اور حق نما وجود کے ظاہر و باطن اور حال وقال کا قریب ہو کر مشاہدہ کرے اور شاہد ناطق بنے۔وعلی ھذا اپنوں کو بھی اور بیگانوں کو بھی، مسافروں کو بھی اور مہمانوں کو بھی کبھی اپنی خدا نما صحبت میں رکھنا چاہتے، کبھی اپنی خلوت اہلی اور پرائیویٹ زندگی اور کبھی اپنی جلوت، مجلسی اور پبلک زندگی کے حالات کے دیکھنے کے مواقع مہیا فرماتے رہتے۔اپنی معاشرت کے پہلوؤں پر غور کرنے اور اپنے مختلف اخلاق پر نظر عمیق ڈال کر حقیقت حال تک پہنچنے کے سامان بہم پہنچاتے تھے کیونکہ آپ کا وجود حقیقتا خودی و دوئی سے دور ایک آلہ خدا نمائی تھا اور رضا اپنے پورے جلال کے ساتھ حضور پرنور پر سایہ الگن اور جلو ہ کناں تھا آں خدائے کہ از و خلق جہاں بے خبراند برمن او جلوه نمود است گر املی بپذیر ہمارا یہ پہرہ بھی حقیقتا اسی خدا نمائی کی کوششوں کی ایک کڑی تھی۔جس کے ذریعے بیسیوں نو جوانوں کو حضور کے کمالات روحانی واخلاقی اور حضور کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی روشنی میں تعلق باللہ اور زندہ اور گناہ سوز ایمان کے حصول کی سعادت نصیب ہوئی ورنہ وہ نور خدا جو ٹھیک وقت پر آسمان سے اترا اور خدا کی وہ آخری راہ جو خدا سے خلق خدا کو ملانے کے لئے پیدا کی گئی اس کا نہ صرف خدا حافظ تھا بلکہ خدا نے اس کے وجود کو دنیا و مافیہا کی حفاظت کا موجب اور ایک تعویذ بنا کر بھیجا تھا اس کو ہم کمزور نو جوان ناتجربہ کار بچوں کی حفاظت اور پہرہ کی کیا ضرورت؟ حقیقت یہی ہے کہ حضور نے خدا نمائی کی مختلف راہوں کو اختیار کیا اور کوئی طریق نہ چھوڑا کہ دنیا محروم رہے۔اپنوں کو قریب اور قریب سے قریب تر کیا۔بیگانوں کو بھی بلایا اور پر زور دعوتیں دیں۔اور اپنی طرف سے حق نمائی کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔یہ سبھی کچھ کیا تا خلق خدا قریب سے قریب ہو کر خدائی نور اور قدرت و جلال۔خدا کا تازہ کلام اور اس کے زندہ نشان دیکھے۔اور زندہ ایمان حاصل کر سکے۔جس کے بعد گناہ کی زندگی پر ابدی موت آتی اور انسان حیات نو پا کر يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَينَةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً :