اصحاب احمد (جلد 9) — Page 179
129 بھیٹر کو لئے کھڑا اور حسرت و نامرادی کے عذاب میں تلملاتا ہوا کھسک آیا تھا اب اس بنگلہ کا طواف کرتا نظر آیا اور دو دو چار چار کر کے اس کے ساتھی بھی وہیں جمع ہونا شروع ہو گئے حتی کہ ہوتے ہوتے پہلے سے بھی زیادہ بھیڑ اور تماش بینوں کا ہجوم ڈاک بنگلہ کے میدان میں جمع ہو گیا۔ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک پہلے سے صاحب بہادر کے کمرہ میں موجود تھا۔جس کے رضا کار وکلاء مشیر قانونی حاضر اور گواہ بغض و تعصب اور خود غرضی و خودستائی کے مارے حق وصداقت اور صدق وسداد کو مٹانے کے لئے ادھار کھائے کھڑے تھے۔حضور کمرہ عدالت میں داخل ہوئے جو ڈاک بنگلہ بٹالہ کے غربی جانب واقع اور جس کے شمال اور غرب میں ورانڈہ موجود ہے۔کمرہ کے دروازوں پر چکیں اور پہرہ دار چپڑاسی ادھر ادھر گھومتے دکھائی دیتے تھے۔حضور کے اندر داخل ہونے کے بعد ہم لوگوں کی جو حالت تھی اس کا اندازہ خدائے علیم وخبیر کے سوا کون کر سکتا ہے۔دل ہمارے بیٹھے جارہے تھے۔خون پانی ہوا جاتا اور جسم ہمارے بیم ورجا اور خوف وامید کے خیال سے لرزاں تھے۔تضرع اور الحاح، عجز وانکسار خود بخود دعاؤں میں رقت اور سوز پیدا کر رہا تھا۔اور ہر کوئی اپنی اپنی جگہ علی قدر مراتب خدا کے فضل اور اس کی رحمت کے نزول کے لئے دست دعا پھیلا رہا تھا۔ہم لوگ انہی حالات میں تڑپتے اور بے قرار ہورہے تھے کہ جبہ پوش کا ہن سردار کے نام کی پکار ہوئی اور وہ بائیں ریش و عمامہ دوڑتا ہوا بصد شوق داخل کمرہ ہو گیا۔اس کو داخل ہوئے ابھی چند ہی منٹ گزرے ہوں گے کہ کمرہ عدالت ڈانٹ ڈپٹ اور ایک غضب آلود دہشتناک آواز سے گونج اٹھا جس کی وجہ سے ہمارے زخمی اور رنجور اور صدمہ خوردہ دل اور بھی بیٹھنے لگے۔آہ۔خداوندا یہ کیا ماجرا ہے؟ ہر کوئی گھبرا اٹھا اور ور انڈہ کے قریب ہوا۔ہم لوگوں کو ورانڈہ کے قریب آتے دیکھ کر اردلی نے اشارہ سے روکا اور ساتھ ہی تسلی دی۔گھبراؤ نہیں۔پادریوں کے گواہ کی عزت افزائی ہو رہی ہے۔قریب ہونے پر جو کچھ ہمارے کانوں نے سنا یہ تھا کہ: بک بک مت کر۔پیچھے ہٹ۔سیدھا کھڑا ہو۔“ ارد لی لوگ مزاج شناس ہوا کرتے ہیں۔حاکموں کے اشاروں پر چلتے اور مرضی و حکم کے مطابق کام کرتے ہیں۔ہمیں تو اس نے تسلی دے دی اور اس کی تسلی ہی سے ہم لوگ سمجھ گئے کہ اندر جو کچھ ہوا وہ خدا اور اس کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمن اور پادریوں کے معاون و مددگار گواہ ہی کی خاطر خدمت ہوئی ہے۔کانوں سے جو کچھ سنا اس کا قرینہ بھی اس بات کا مؤید تھا کیونکہ حضرت اقدس کے بولنے کا موقعہ ہی نہ تھا نہ محل۔بولا ہو گا تو وہی گواہ جس کو شہادت کے لئے اندر بلایا گیا تھا۔اتنے میں اردلی نے