اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 4 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 4

۴ مواضعات سے آٹھ دس میل کے فاصلہ پر تحصیل ہے مدرسہ میں داخل کرا دیا۔اور آپ کی رہائش اپنی ایک ہم قوم چی صاحبہ کے ہاں رہی جو بڑھاپے اور بیوگی کے ایام صبر اور محنت ومشقت سے کاٹ رہی تھیں۔آپ کے خیالات بدستور ہندوانہ تھے۔دیوی دیوتاؤں کی پوجا پاٹھ اور شوالے مندروں میں جا کر گھنٹے بجانا۔جگراتے اور آرتیوں میں شریک ہونا آپ کا کام تھا۔سکول کو جاتے ہوئے اور واپسی پر دیوی دوارہ یا جو مندرراستہ میں پڑتا۔سر جھکا کر ماتھا ٹیکے بغیر یا پرارتھنا کئے بغیر آپ ہر گز نہ گذرتے۔اور اس کو آپ نیکی اور سعادت کا موجب یقین کیا کرتے تھے۔آپ اپنی قومی رسوم کے نہایت سختی سے پابند تھے۔اور خوشی سے ان کی پابندی کیا کرتے تھے۔خواہ کتنی بھی آپ کو تکلیف کیوں نہ ہو۔آپ ہر قسم کے برت رکھتے اور دیانتداری سے ان کو نبھاتے تھے۔حتی کہ بعض قسم کے برت اسلامی روزہ سے بھی زیادہ لمبے ہوا کرتے تھے وہ بھی آپ رکھتے تھے۔قومی رسم کے مطابق گنا کھانا ایک خاص وقت ( غالباً اسوج کے آخر یا کا تک کے شروع ) تک ممنوع تھا اور خاص پابندی تھی کہ جب تک مقررہ دن با قاعدہ دیوی دیوتا کے سامنے اپنے جسم کا خون بطور بھینٹ نہ چڑھا لیتے گنا نہ کھایا جاتا تھا۔آپ باوجود بچپن کے صبر کرتے۔اور اس رسم کو خوشی خوشی ادا کرنے کے بعد گنا کھانے کا نام لیتے۔دیوی دیوتا کے سامنے نہایت عقیدت اور شوق سے اپنے جسم کا خون گراتے اور اس میں حوصلہ اور برداشت کا غیر معمولی نمونہ دکھایا کرتے جس سے عموماً آپ سے بڑے بھی گھبرایا کرتے تھے۔آپ عموماً سردی و گرمی میں سویرے اٹھتے اور غسل کے لئے تالاب پر جایا کرتے اور وہ دید منتر (جو دیہاتی زندگی میں آپ کو پنڈت استاد نے یاد کرائے تھے اور موجودہ معمر اور مذہبی خیال کی دادی کی تربیت کے باعث وہ روح آپ میں قائم تھی ) پڑھ پڑھ کر پوجا پاٹھ اور پرارتھنا کیا کرتے تھے۔یہ اس زمانہ کے حالات ہیں جبکہ آپ کی عمر نو دس یا گیارہ سال کی تھی۔انہی ایام میں ایک روز آپ کے بڑے بھائیوں وغیرہ نے کچھ وعظ ونصیحت اور کچھ دھمکی سے آپ کو حقہ پلایا تا عادی ہو کر آپ اس رنگ میں بڑوں کی خدمت کر سکیں۔لیکن ایک ہی کش سے آپ کی آنکھیں پھر گئیں۔سر میں چکر آنے لگے اور بے ہوشی تک نوبت پہنچ گئی۔چنانچہ ان لوگوں نے پشیمان ہو کر یہ کہتے ہوئے آپ کو ہمیشہ کے لئے آزاد کر دیا کہ : ” چھوڑ وا سے، یہ ہمارے کام کا نہیں۔“ ایک روز ایک خالہ نے ہنسی مذاق میں آپ کو بازوؤں سے پکڑ کر چکر دیا۔جس سے بُنِ ران میں شدید درد ہو گیا حتی کہ گنبھیر ہو گیا اور آپ اٹھنے بیٹھنے سے معذور ہو گئے۔اور سخت تکلیف اٹھائی اور ایک سال کے بعد اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہوا اور آپ کو شفا ہوئی۔