اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 157 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 157

۱۵۷ حضرت اقدس کی سیر کی عادت " حضور کی عادت مبارک تھی کہ صبح کی نماز کے بعد کچھ دن نکلے سیر کے واسطے تشریف لے جایا کرتے تھے۔اور سیر میں جانے سے پہلے حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول کو بھی اطلاع کر دیا کرتے تھے تا کہ وہ بھی ساتھ ہوں۔بعض اوقات ان کی انتظار بھی فرمایا کرتے تھے اور ان کو ساتھ لے کر جایا کرتے تھے۔سیر کی عادت“ کے عنوان کے تحت خطوط وحدانی میں درج کردہ الفاظ۔خاکسار مؤلف نے بھائی جی سے استفسار کر کے زائد کئے ہیں۔بقیہ حاشیہ :۔تھی اس پر فور لیٹ گئے۔حضرت اُم المؤمنین نے ہمیں انگلی کے اشارہ سے خاموش رہنے کو فرمایا اور بتایا کہ الہام ہو رہا ہے۔جب الہام کی حالت جاتی رہی تو حضور کے چہرے پر پسینہ آ گیا اور حضور ضعف محسوس کرنے لگے۔حضور کا جسم دبایا گیا۔اس حالت کے جاتے رہنے پر حضرت اُم المؤمنین نے دریافت کیا کہ کیا الہام ہوا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ سب باتیں بتانے والی نہیں ہوتیں۔اس صحن سے بیت العافیہ پر چڑھنے کے لئے ایک سیڑھی تھی۔سیڑھی کے اوپر دروازہ تھا۔حضور نے اس دروازہ کو مقفل کروا دیا اور فرمایا کہ یہ دروازہ بندر ہے گا۔جب میرے مولا کا حکم ہوگا تو کھولا جائے گا۔ایک معمر خادمہ جن کا نام مائی تا بی تھا۔حضرت اُم المؤمنین کے پٹارے سے از خود چابی لے کر اوپر جا کر اس نے دروازہ کھول دیا۔ابھی زیادہ دیر نہ گزرنے پائی تھی کہ اوپر دھڑام سے کسی کے نیچے گرنے کی آواز آئی۔اوپر کے مشرقی کمرہ کی جنوبی دیوار کی مغربی کھڑکی سے مائی تابی کے گرنے کی یہ آواز تھی۔آواز سُن کر حضرت اقدس بھی وہاں تشریف لے آئے اور دریافت فرمایا کہ کیا ہوا۔حضور نے واقعہ سن کر فرمایا کہ میرے مولا کا تو ابھی حکم نہیں ہوا تھا کہ اس دروازے کو کھولا جائے۔اتنی بات فرما کر حضور اپنے کمرہ میں تشریف لے گئے اور اس دروازہ کو پھر مقفل نہیں کیا گیا۔مائی تابی چوٹیں آنے کی وجہ سے بہت دن چار پائی پر پڑی رہی۔(از مؤلف ) ۱۔اوپر کے حصے سے کسی کے گرنے کے حادثہ کی خبر الہاما حضور کو ملی ہوگی۔اس کے پورا ہو جانے کے باعث دوبارہ دروازہ مقفل نہیں کیا گیا ہوگا۔-۲- بیت العافیة کے نیچے حضرت سیّدہ ام ناصر صاحبہ کا دالان ہے نہ کہ محن۔خاکسار مؤلف سے طبع اوّل میں سہوا صحن کا لفظ درج ہوا ہے۔