اصحاب احمد (جلد 9) — Page 152
سے ایک تو یہ لکھا تھا۔۱۵۲ دوشه نشین محمد عربی کا بروئے ہر دوسرا است کسے کہ خاک درش نیست خاک بر سر اوست مسجد مبارک کی بالائی منزل پر دوشہ نشین تھے۔ایک تو جنوبی آثار کے اوپر جیسا کہ آخری توسیع کے بعد اب بھی جنوبی طرف بنایا ہوا ہے۔مگر سیخیں لگی ہوئی نہ تھیں۔دوسرا شہ نشین جواب ستمبر ۱۹۶۰ ء تک بعینہ موجود ہے مغربی دیوار میں تھا حضرت اقدس عموماً نماز شام کے بعد اسی شہہ نشین پر رونق افروز ہوا کرتے تھے اور یہ حجرہ کے غربی آثار پر بنا ہوا تھا۔الدار کا دروازہ آج کل جو ایک دروازہ مسجد مبارک کے بالکل مشرقی حصہ میں الدار سے کھلتا ہے یہ دروازہ پہلے نہ تھا بعد میں ( حضرت اقدس ہی کے زمانہ میں ) کھولا گیا ہے پہلے زمانہ میں اس دروازہ کے اندر کے حصہ میں ایک لکڑی کی سیڑھی ہوا کرتی تھی جس کے ذریعہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اندرون خانه سے مسجد مبارک کے بالائی حصہ میں تشریف لایا کرتے تھے۔اس زمانہ میں جو دروازہ مسجد مبارک کی اصل چھوٹی سیٹرھیوں سے اندرون الدار جانے کا تھا وہ آجکل بند ہے اور موجودہ دروازہ اس کی بجائے کام دیتا ہے ( پہلا دروازہ اس چھوٹی سیڑھی میں سے مسجد مبارک میں داخل ہونے سے ایک دوسیٹرھی پہلے کھلتا تھا۔دیوار میں اس کی چوکھٹ اب بھی نظر آتی ہے۔ا خطوط واحدانی والی عبارت خاکسار نے بھائی جی سے استفسار کر کے زائد کی ہے۔ضروری نوٹ۔خاکسار اس موقع پر ریکارڈ کرنے کے لئے عرض کرتا ہے کہ گزشتہ سات آٹھ سال میں دارا مسیح میں ذیل کا اضافہ وغیرہ کیا گیا ہے: - دارالبرکات ( حضرت مرزا شریف احمد صاحب والے اوپر کے حصہ ) میں جنوبی دیوار کے پاس بیرونی دروازہ کے قریب جو سیڑھیوں کے پاس ہے۔نئی تعمیر ہوئی ہے۔( بوقت طبع دوم یہ ختم کر دی گئی ہے۔اب نہیں رہی)۔-1