اصحاب احمد (جلد 9) — Page 124
۱۲۴ بٹالہ قادیان کی سڑک میں سے ہی گذرا کرتا جو بعض اوقات اتنا گہرا تیز اور زور سے چلتا کہ اس میں سے سلامت گذر جانا ہر کسی کا کام نہ تھا۔گاؤں صحیح معنوں میں ایک جزیرہ ہو جایا کرتا۔دیہات ومضافات سے آنے والے اور مسافر کیا ، عورت اور کیا مرد۔کپڑے اتار کر برہنہ ہوکر گاؤں میں پہنچا کرتے اور یہ منظر نہایت ہی ناگوار اور غیرت کش ہوا کرتا تھا ( وسائل آمدروفت کی تکلیف جہاں قادیان پہنچنے میں بھاری روک ہوا کرتی وہاں آبادی کی ترقی میں بھی ایک سد سکندری تھی۔) اسٹیشن دور، وسائل بار برداری کمزور، اینٹ تک بھی بٹالہ سے منگانی پڑتیں۔جو علاوہ خرچ کے وقت بہت لیا کرتیں۔گڈے ٹوٹ کر اور گدھے بوجھ سے تھک کر راستہ ہی میں رہ جایا کرتے۔مجبوراً سامان وہیں ڈھیر کرنا پڑتا جس کی حفاظت نہ کی جائے تو آدھا پلے پڑتا۔حضرت اقدس کے طفیل جب آنے والے ان مشکلات سے بھی نہ گھبرائے نہ تھکے تو اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔ایک دو میکوں کی بجائے پہلے تو یکے ہی بڑھ گئے۔کمائی دیکھ کر کئی لوگوں نے یکے بنا لئے۔ان کے علاوہ سواری کا رخ دیکھ کر دوسری سڑکوں کے یکے بھی قادیان کو آنے لگے۔کچھ یکے کی وضع قطع اور بناوٹ میں تبدیلی ہوئی۔پہلے یکہ پھر ترقی یافتہ یکہ۔اس کے بعد بمبو کارٹ اور ٹم ٹم کے بعد ٹانگہ بنا۔☆ جائیداد غیر منقولہ کی بیقدری اس زمانہ میں جائیداد کی کوئی قیمت تھی نہ قدر۔زمین و مکان کوڑیوں کے مول بکتے کوئی خریدار تھا نہ گاہک۔چنانچہ قلعہ کی فصیل جو گورنمنٹ برطانیہ کی ملکیت قرار پا چکی تھی اور کا غذات سرکاری میں نزولی رقبہ کہلا تا تھا جب حکومت نے نیلام کرنا چاہی تو کئی مرتبہ نا کامی ہوئی۔اور نیلام کنندہ حکام نا کام واپس چلے گئے کیونکہ کوئی اس کے خرید نے کو تیار نہ ہوتا۔آخر سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے ابتدائی زمانہ میں آخری مرتبہ نیلام ہوا۔اور فصیل کی زمین مفت کے برابر برائے نام قیمت پر اس مضمون میں خطوط واحدانی کی شکل میں جو اضافہ کیا گیا ہے وہ الحکم بابت ۱۴۷ مئی ۱۹۳۸ء میں اندراج سے کیا گیا یا استفسار کر کے خاکسار مؤلف نے زائد کیا ہے۔یہ مضمون ”ارض حرم کی ابتدائی تاریخ وغیرہ سہ گونہ سرخیوں کے ساتھ الحکم بابت ۷ ۱۴ جنوری ۱۹۴۰ء صفحہ ۳ تا ۸ میں شائع ہوا ہے۔البتہ عبارت وسائل آمد و رفت کی تکلیف سے لے کر آخر پیرا تک جو الفاظ ٹمٹم کے بعد ٹانگہ بنا ، میں صفحہ اسے ماخوذ ہیں۔