اصحاب احمد (جلد 9) — Page 117
112 کی بنیاد رکھی جس کے خود مختار ریس ایک ایسے خوش نصیب اور قابل رشک فارسی النسل وجود کی یادگار تھے جس کی قلبی کیفیت خالق ارض و سماء کے حضور پہنچ کر قبول ہوئی۔خدا نے اس کے کسی عمل ، اس کی کسی ادا کو پسند فرمایا اور دنیا کے عظیم ترین اور مقدس ترین خدا کے مقبول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے محبت کی اور اس کو اپنے دست شفقت سے نوازا۔بالکل سچ، صحیح اور راست وحق ہے ع مصفی قطره باید که تا گوہر شود پیدا خدا کے انبیاء ورسل نجیب الطرفین اور عالی خاندان ہوا کرتے ہیں تا ان کی بیعت اطاعت اور غلامی کو عار اور ذلت و تو ہین سمجھ کر لوگ ہدایت اور دولت ایمان سے محروم نہ رہ جائیں۔علماء اور صلحاء کے اجتماع کا مقام حکمران خاندان کی جوانمردی، بیدار مغزی ، ہمت و استقلال اور فہم و ذکاء کے ساتھ اس کی فیاضی ، نیکی اور عدل وانصاف کا ایسا چرچا تھا کہ دور دراز سے حق و صداقت کے پیاسے اور اکثر اہل اللہ ان کی صحبت کے فیض سے مشرف ہونے کو جمع رہتے۔یہاں تک کہ ان کے دستر خوان پر پانچ پانچ سو علما ، فضلاء، حفاظ اور صلحاء کا مجمع رہتا۔اور اللہ اور اس کے رسول اور اقوال اعمال کے تذکرے رہتے اور دین داری اور پرہیز گاری کا یہ عالم تھا کہ کوئی بھی ان میں تارک نماز نہ تھا۔حتی کہ پنساریاں تک تہجد گزار تھیں۔القصہ بے دینی اور جہالت کے زمانہ میں یہ مقام علم وفضل اور نیک و پاک مقاصد کا مرکز تھا۔طوائف الملو کی اور ضعف واد بار کے زمانہ اور تنگی و مشکلات کے ایام میں بھی ان لوگوں نے فیاضی اور عطاء دستی کو ہاتھ سے نہ جانے دیا اور بعض تفرقہ زدہ مسلمان رئیسوں کو کئی گاؤں بطور مروت دے دیئے۔اور اس طرح عسر کی حالات میں بھی دل کھول کر شرفاء کی امداد کرتے رہے۔ایسی ہی باتوں سے اس ظلم و فساد اور فسق و فجور کے زمانہ میں اس بستی کو لوگ اسلام پور اور مکہ کے نام سے یاد کر نے لگے تھے۔کیونکہ اس بدامنی اور جھگڑے فساد کے زمانہ میں مسلمانوں کے لئے یہی قصبہ مبارکہ پناہ کی جگہ تھی۔اس کے سوا ہر جگہ کفر اور فسق و فساد اور ظلم نظر آتا تھا۔قادیان گویا کہ اس زمانہ میں حامیان دین، صلحاء علماء اور نہایت شریف اور جوانمر دلوگوں سے مل کر ایک ایسا باغ بنا ہوا تھا۔جس کے اثمار علم و عمل، نیکی و تقویٰ یہاں سے لے کے ۳ مسجد محلہ ارائیاں تک الفضل جوبلی نمبر اور الحکم بابت ۱۴ ، ۲۱ جنوری ۱۹۴۰ء سے اضافہ کیا گیا ہے۔