اصحاب احمد (جلد 9) — Page 99
۹۹ حضور نے مریضوں کی رہائش کے لئے آپ سے باصرار خرید لیا۔اصحاب احمد جلد دوم تالیف کے دوران حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے خاکسار مولف کو سنایا چونکہ ” پیاروں کی ہر بات پیاری ہوتی ہے اس لئے اسے اصحاب احمد جلد دوم میں درج کر دیا گیا تھا کہ میں حضرت مولوی ( نورالدین ) صاحب کے گھر کے ایک حصہ میں رہتا تھا حضرت پیر منظور محمد صاحب کے مکان سے شمال مشرق کی طرف کی سڑک تک جگہ خالی تھی۔ان ایام میں احباب بھرتی ڈلوا کر مکان بنا لیتے تھے۔میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ایک روز میں حضرت مولوی صاحب کے پاس مطب میں بیٹھا تھا فرمانے لگے کہ یہ جگہ مجھے دیدو۔مریضوں کی رہائش کے لئے درکار ہے۔( یہ حضرت مولوی صاحب کے مکان کے ملحق ہے ) میں نے عرض کیا کہ جیسے آپ پسند فرمائیں۔دریافت فرمانے پر کہ کتنا خرچ آیا ہے۔میں نے نوے روپے گنوائے تو مجھے مطب کے مغربی دروازے سے نکل کر پچھواڑے کی طرف آنے کے لئے فرمایا اور خود مکان کے مشرق کی طرف سے آئے۔اور بک ڈپو کے پچھواڑے میں کنویں کے پاس ملے اور مجھے سوروپے کا ایک نوٹ دے کر فرمایا کہ دس روپے مجھے واپس دے دینا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ رزق غیب کی صورت ہوگی۔مطب میں روپیہ رکھنے کی کوئی جگہ نہ تھی۔اور اگر گھر میں کسی جگہ رکھتے تھے یا جیب میں تھے تو مجھے ایک طرف سے بھیج کر خود دوسری طرف سے آنے کی کیا ضرورت تھی۔پھر بھائی جی نے ۱۹۱۱ء میں موجودہ مکان کی تعمیر شروع کی اور چونکہ اس مکان کی جائے سفید کے لئے حضرت خلیفہ اول نے نعم البدل“ کا لفظ استعمال کیا تھا اس لئے اس مکان کا نام بھی بھائی جی نے نعم البدل ہی رکھ لیا۔یہ مکان سیدہ حضرت ام المومنین اعلی الله درجاتھا اور خواتیں مبارکہ کے پاک قدموں سے بار ہا مبارک ہو چکا ہے اس کی پیشانی پر ذیل کی عبارت مرقوم ہے اس میں مندرج بھائی جی کے سابق نام کے باعث یہ بحالات موجودہ تبلیغ کا رنگ پیدا ہو چکا ہے۔( جس کا ہمیں علم ہوتا رہتا ہے ) ابتداء تمیر ۱۳۲۹ھ /۱۹۱۱ء توسیع بعہد خلافت ثانیه ۱۳۳۴ھ/۱۹۱۵ء بسم الله الرحمن الرحيم ماشاء الله لاقوة الا بالله ومن يها جرفى سبيل الله يجد في الارض مراغما كثيراً و سعة نعم البدل منزل ( حضرت خلیفہ المسیح اول)