اصحاب احمد (جلد 9) — Page 95
۹۵ مطابق موضع و بیرم دتاں تحصیل شکر گڑھ میں ایک اچھے زمیندار اور آسودہ حال چوہدری دیوی د تیل صاحه کی دختر گیان دیوی سے ہوئی تھی۔آپ کے اظہار اسلام کے بعد اور خصوصاً جب کہ آپ دوبارہ والدین کے چنگل سے نکل آنے میں کامیاب ہو گئے۔آپ کے اقارب خصوصاً والدہ صاحبہ نے آپ کی بیوی کو آپ سے دور رکھنے اور الگ کرنے کی کوشش کی۔اور اخراجات تک جو کہ آپ اس کے لئے گاہے گا ہے بھیجا کرتے اس کو نہ پہنچنے دیئے۔بلکہ بعض عزیزوں سے معلوم ہوا کہ ان کی اطلاع تک بھی آپ کی بیوی کو نہ ہونے دی۔موصوفہ ایک دو سال ہوئے جالندھر میں وفات پاگئی ہیں ان کے بطن سے صرف ایک بچی پیدا ہوئی تھی جو زندہ نہ رہی تھی۔دوسری شادی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے حکم اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کے مشورہ سے ایک راجپوت گھرانے میں محترمہ زینب بی بی صاحبہ بنت شیخ علی محمد صاحب سکنہ قصبہ ڈنگہ (ضلع گجرات) سے ۱۹۰۱ء کے اواخر یا اوائل ۱۹۰۲ء میں آپ کی شادی ہوئی اور بھائی جی کی قرابت اور اپنے حسن عقیدت کے بھائی جی کی ایک تحریر میں مرقوم ہے کہ آپ کی شادی ۱۹۰۳ء میں ہوئی اور یہ کہ آپ کے خسر صاحب اور خوش دامن صاحبہ کا خاندان ، صحابہ حضرت مسیح موعود کا ہے۔جس نے ۵ ۹-۱۸۹۴ء میں حضور سے بیعت کی سعادت پائی۔آپ کی اہلیہ محترمہ نے آپ کی موجودگی میں مجھ مؤلف کو بتایا کہ شادی سفر جہلم (۱۵رجنوری ۱۹۰۳ء) سے تین چار ماہ قبل ہوئی تھی اور رخصتانہ ہونے پر مجھے قادیان لایا گیا۔یہ پہلی بارتھی کہ مجھے قادیان آنے کا موقع ملا۔پہلے وقت کا کھانا دارا مسیح کے نچلے حصے میں سیدہ ام المؤمنین (اعلیٰ اللہ درجاتھا ) کی طرف سے کھلایا گیا تھا۔(از مؤلف) تاریخ شادی کے بارے دونوں کو سہو ہوا ہے۔بھائی جی کی ۱۹۰۳ء کے بارے تحریر چند سال قبل کی ہے۔اس سے کم از کم تیں پینتیس سال قبل خلافت اولیٰ کے ابتدائی ایام میں مرقوم ایک خط میں بھائی جی لکھتے ہیں : ۱۹۰۲ء کے آخر میں حمل اول سے ایک لڑکی تولد ہوئی۔