اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 90 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 90

اسی طرح ایک لمبے عرصہ کی کشمکش اور شیطانی نزع سے طرفین کو نجات ملی۔اور حضور پر نور کی تو جہات کریمانہ سے بچھڑے ہوئے مل بیٹھے اور وہ خلیج جو میرے اور میرے والدین اور رشتہ داروں میں دن بدن بڑھتی اور حائل ہوتی جارہی تھی۔حضور کے انفاس قدسیہ کے طفیل پھر سے پاٹ کر یک جان کر دی گئی اور اس طرح کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے شیطان مایوس ہوا اور رحمت الہی کے فرشتے غالب آ گئے۔الحمد لله ثم الحمد لله اس دفعہ والدہ محترمہ نے سنایا کہ انہوں نے تعویذ اور گنڈے کرنے میں بھی کوئی کسر نہ رکھی۔ملاں ملانے اور سادھو جوگی جو بھی آیا اس کے سامنے اپنا رونا رویا۔اور پھر جو کچھ بھی کسی نے بتایا مہیا کرنے کی کوشش کی۔نہ خرچ سے دریغ کیا نہ دوڑ دھوپ میں کوئی دقیقہ اٹھا رکھا۔سفید بے داغ مرغ پر وظیفہ پڑھنے والوں کے لئے سفید مرغوں کی تلاش کی۔الٹے چرخ چلایا کئے اور الٹی چکیاں پھرایا کیں۔بعض کو تو مہینوں بٹھا بٹھا کر چلے کٹائے مگر بنا کچھ بھی نہ۔آخر تھک ہار کر یہ یقین کرنا پڑا کہ یہ باتیں کبھی بے اثر اور محض کھانے کے حیلے تھے۔ورنہ ہماری مشکل کیوں حل نہ ہوئی۔“ راقم عرض کرتا ہے کہ: قریباً ڈیڑھ ماہ کے بعد والدہ محترمہ کی اجازت سے اور ان کی خوشنودی حاصل کر کے بھائی جی قادیان واپس آگئے اور اس طرح والدین بہن بھائیوں اور آپ کے لئے آمد و رفت کا راستہ کھل گیا۔اور باہمی تعلقات ایسے خوشگوار ہو گئے کہ وہ بھی آپ کے پاس آکر مہینوں ٹھہرتے۔بھائی جی کا کہنا ہے کہ: واپسی پر بعض دوستوں سے معلوم ہوا کہ عید الاضحیہ کے قریب سیدنا حضرت اقدس نے تکیہ حسینا پر قادیان میں دوبارہ آمد سے یہاں تک کے حالات الحکم ۱۴۷ جون ۱۹۳۸ء سے ماخوذ ہیں اور حضرت بھائی جی کو سُنا کر تصحیح وغیرہ کرائی ہے۔بھائی جی فرماتے ہیں کہ قادیان کے میراثی خاندان کی قبریں اس جگہ تھیں۔ان کا کوئی جدحسین نامی تھا۔اس کے نام پر تکیہ حسینا نام پڑ گیا تھا۔جس وقت حضرت اقدس کے عہد میں وہاں عیدیں وغیرہ ہوتی تھیں اس وقت یہ تکیہ اجڑ چکا تھا اور میدان تھا اور اس کے شمال مغربی کونے پر ایک بڑ کا درخت تھا جس کے نیچے اور قریب عیدین اور نماز جنازہ ادا ہوتی تھی۔