اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 88 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 88

۸۸ قادیان آ ئیں۔لیکن مجھے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان کی غلامی اتنی محبوب اور دل پسند تھی کہ میں نے اس کو ہزار آزادیوں اور آراموں پر ترجیح دی اور جب ایک دفعہ میرے والد نے بڑی آہ وزاری اور الحاج سے مجھے واپسی کے لئے مجبور کرنا چاہا۔تو میں ( نے ) اپنی والدہ کو یہ کہا کہ وہ ذرا اس مقدس اور پر شفقت ہستی کو تو ملے جس کی غلامی پر مومنوں کی تمام جماعت فخر کرتی ہے۔چنانچہ میری والدہ میری درخواست و اصرار پر سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا سے ملاقی ہوئیں اور تھوڑے سے وقت کی ملاقات سے ہی حضرت ممدوحہ کے اخلاق کریمانہ والہ وشیدا ہو کر واپس لوٹیں۔اور اس بات کا اظہار کرتی گئیں کہ اگر میرا بچہ مجھے چھوڑ کر ایک ایسی مشفقہ اور کریمہ ومحسنہ کی غلامی میں آ گیا ہے تو یہ میرے لئے اور میرے خاندان کے لئے باعث تشویش امر نہیں۔بھائی جی بیان کرتے ہیں کہ ”میری حالت بہتر اور روبہ صحت دیکھ کر والدہ نے اس خواہش کا اظہار فرمانا شروع کیا کہ میں چند روز ان کے ہمرکاب وطن چلا جاؤں۔اور چونکہ میں بھی اب ان کی طبیعت کا خوب اچھی طرح مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ اب وہ بالکل بدل چکی ہیں اور حالات وہ نہیں رہے جن کا مجھے اندیشہ تھا۔میں نے ان کی خوشی کی خاطر ساتھ وطن چلنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔مگر ساتھ ہی عرض کیا کہ میں اپنی مرضی کا مالک نہیں۔چنانچہ انہوں نے میری تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے حضرت اقدس کے حضور حاضر ہوکر اپنی خواہش کا اظہار کیا۔حضور پر نور نے حضرت مولوی صاحب سے مشورہ کے بعد جواب دینے کو فرمایا اور آخر میرے ساتھ شیخ احمد دین صاحب ڈنگوی کو بھیج کر مجھے والدہ سمیت لائکپور پہنچا دیا۔اخراجات سفر حضور نے اپنی جیب سے مرحمت فرمائے۔اور تاکید فرما دی کہ والدہ کی خوشی اور رضامندی کا خیال رکھنا اور الیسا اچھا نمونہ دکھانا کہ ان لوگوں کے دل بھی نیکی کی طرف مائل ہوں۔کوئی بات مرضی کے خلاف بھی ہو تو ان کی خوشی کو مقدم کرنا۔اور تکلیف اٹھا کر بھی ان کی دلجوئی کرنا۔آپ کی جدائی کی وجہ سے واقعی ان کو بہت صدمہ ہے اور وہ قابل رحم ہیں۔پس ان کی خدمت اور فرمانبرداری کر کے ان کی تکلیف کا ازالہ کرنے کی کوشش ضرور کرنا اور جب وہ خوشی سے اجازت دیں واپس آ جانا۔“ اس طرح میری والدہ مجھے اپنے ساتھ لے جا کر ایسی خوش تھیں جس کی کوئی انتہا نہیں۔سارے رنج وغم جو اس عرصہ میں ان کو پہنچے تھے آج کا فور ہو گئے اور وہ روتی ہوئی قادیان آئی تھیں مگر خدا نے ہنسی خوشی انہیں واپس جانا نصیب کیا۔والد صاحب بھی پہلی مرتبہ مجھے لے کر گئے تھے اور آج والدہ محترمہ بھی مجھے