اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 75 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 75

۷۵ انگریزی کا پرچہ کمزور ہو گیا تھا۔آپ کو فیل ہونے کا ڈر تھا۔آپ نے یہ طریق اختیار کیا کہ جمعہ کے روز سات دعائیہ خطوط امتحان میں کامیابی کے لئے دعا کے واسطے حضرت خلیفہ امسیح اول کی خدمت میں لکھ لیتے۔روزانہ صبح کی نماز کے بعد ایک درخواست حضور کی خدمت میں بھیج دیتے۔چند ہفتہ کے بعد حضور نے فرمایا کہ اب مجھے دعائیہ درخواست بھیجنے کی ضرورت نہیں۔مجھے تم ہر دُعا کے وقت یاد آ جاتے ہو۔نتیجہ نکلنے سے چند روز قبل میں نے خواب دیکھا کہ میں اور میرا ایک دوست چوہدری برکت علی الہ آباد کے تقسیم اسناد کے ہال میں بیٹھے ہوئے ہیں اور لاٹ صاحب طلباء کو ڈگریاں تقسیم کر رہے ہیں۔جب میری باری آئی تو لاٹ صاحب نے بجائے مطبوعہ سند دینے کے ایک سفید کاغذ پر خوشخط یہ لفظ لکھ دیئے۔غلام محمد گریجویٹ اور یہ کاغذ مجھے دے دیا۔میں نے اپنے دوست سے کہا کہ اسناد تو مطبوعہ ہوتی ہیں۔مگر اس نے مجھے دستی لکھ کر دی ہیں۔وہ کہنے لگا کہ اکثر مطبوعہ ہی ہوتی ہیں۔مگر اگر کوئی غلطی سے رہ گئی ہو تو اس کو یہاں بھی لکھ کر دے دیتے ہیں۔میں نے اس خواب کا مطلب یہ سمجھا کہ میں حضور کی دعاؤں کی وجہ سے کامیاب ہو گیا ہوں۔(۳) ”میرے بڑے لڑکے عزیز غلام احمد کو کان پر توت ہو گئی۔چونکہ ان دنوں میں قادیان میں کرایہ پر مکان نہیں مل سکتے تھے اس لئے میرے اہل وعیال وطن ہی میں رہتے تھے۔عزیز کا سیالکوٹ کے ایک ڈاکٹر سے ڈیڑھ سال تک علاج ہوتا رہا مگر فائدہ نہ ہوا۔آخر ڈاکٹر نے کہا کہ اسے قادیان میں بھیج دو۔شاید حکیم نورالدین صاحب کے علاج سے اسے شفا ہو جائے۔چنانچہ اس بارہ میں چچا صاحب کا خط لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس وقت آپ زنان خانہ میں تشریف رکھتے تھے۔اطلاع کرانے پر حضرت نے مجھے اندر بلا لیا۔آپ پٹھے کی چار پائی پر پائینتی کی طرف تشریف فرما تھے اور مجھے سرہانے کی طرف بیٹھنے کا اشارہ فرمایا۔میں فوراً بیٹھ گیا۔بعد میں حضرت مولوی شیر علی صاحب تشریف لائے۔ان کو بھی آپ نے اندر بلالیا اور میرے پاس سرہانے کی طرف بیٹھنے کا ارشاد فرمایا۔دوسری طرف ایک صف پڑی ہوئی تھی۔مولوی شیر علی صاحب اُسے اٹھا لانے کے لئے گئے۔لیکن حضور کے دوبارہ فرمانے پر میرے پاس چار پائی پر بیٹھ گئے۔آپ نے چچا صاحب کا خط پڑھ کر میرے بال بچوں کے مجھ سے علیحدہ رہنے کو نا پسند