اصحاب احمد (جلد 8) — Page 37
۳۷ متعلق واقفیت بہم پہنچائی جاتی ہے۔حضور کے ارشاد پر آپ پانی پت میں ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کے پاس پہنچے۔کئی دن کے معائنہ کے بعد حضرت ڈاکٹر صاحب اس نتیجہ پر پہنچے کہ ڈاکٹر نے اپریشن نہایت قابلیت سے کیا ہے لیکن دنبل کی پیپ سے پیشاب کی نالی کا نچلا حصہ کھایا جا چکا ہے۔اس لئے اس میں سوراخ ہو گیا ہے۔یہ حصہ نازک ہے۔نہ یہاں ٹانکے لگائے جاسکتے ہیں اور نہ ہی زخم کے اند مال کی کوئی اور صورت ہے اور فرمایا کہ زخم کو اسی حالت میں چھوڑ دیں شاید اللہ تعالیٰ کوئی اور صورت پیدا فرما دے۔ان کوائف کی اطلاع پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آپ قادیان آجائیں۔چنانچہ آپ قادیان آکر مہمان خانہ میں مقیم ہوئے۔حضرت سیدہ ام المومنین علی اللہ درجاتہ فی الجنۃ نے فرمایا کہ مولانا راجیکی صاحب کی پہلی ضیافت میرے ہاں تیار ہوگی۔چنانچہ آپ نے کبوتر کا گوشت اور چپاتیاں مہمان خانہ میں بھجوائیں۔دو تین دن کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے حضرت مولوی صاحب لا ہو ر اپنے اہل و عیال کے پاس چلے گئے۔وہاں آپ نے درس القرآن کا سلسلہ شروع کر دیا۔باوجود یکہ امیر جماعت قریشی حکیم محمد حسین صاحب نے فرمایا کہ ہم تو آپ کی شدید اور پیچیدہ بیماری کے علاج کے لئے آپ کو میو ہسپتال میں داخل کرنے کا انتظام کر رہے ہیں، درس دینا آپ کے لئے سخت مضر ہے۔آپ نے ایک رؤیا کی بنا پر فرمایا کہ میرا علاج میوہسپتال میں نہیں بلکہ درس سے ہوگا۔چنانچہ درس شروع کرنے کے ایک ہفتہ بعد پیشاب اصل راستہ سے آنے لگا اور وہ خطرناک زخم ایک ماہ میں مندمل ہو گیا۔آپ کا صبر و رضا بالقضا کا اسوہ بہت ہی عظیم الشان ہے۔خاکسار مؤلف کے چھوٹے بھائی ملک برکت اللہ خاں صاحب (بی اے آنرز) نے سنایا کہ حضرت مولوی صاحب کے جواں سال اور عالم فرزند مکرم مولوی مصلح الدین احمد صاحب فوت ہوئے تو آپ کے پاس دوست تعزیت کے لئے آئے تو آپ نے فرمایا کہ جب کسی دوست کا لڑکا اپنے چچا، ماموں یا پھوپھی کے پاس جاتا ہے تو وہ فخر سے کہتا ہے کہ میرالڑ کا فلاں عزیز کے پاس گیا ہوا ہے۔اب میرالڑ کا سب سے زیادہ محسن اور پیارے خدا کے پاس چلا گیا ہے اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوا ہے