اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 33 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 33

۳۳ کو دیکھ کر اپنے پاس کھڑے احباب سے کہا کہ مولانا راجیکی صاحب اولیاء اللہ میں سے ہیں لیکن عام لوگ ان کی سادگی کی وجہ سے ان کے مقام کو نہیں سمجھتے۔سچ ہے۔به نخوت ہانے آید بدست آں دامن پاکش کسے عزت از و یابد که سوز درخت عزت را آپ کے فرزند خویم مولوی برکات احمد صاحب کی شادی کے سلسلہ میں ۱۹۵۱ء میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت امیر صاحب جماعت احمدیہ قادیان کو تحریر فرمایا:- مولوی برکات احمد صاحب مخلص واقف زندگی ہیں اور ان کے والد سابقون میں سے ہیں“۔تکالیف پر صبر و ثبات اور اعلائے کلمتہ اللہ میں استقلال حضرت مولوی صاحب اپنی زندگی کے اکثر حصہ میں اعصابی امراض کا شکار رہے ہیں لیکن با وجود شدید تکلیف کے آپ نے کبھی شکوہ کا لفظ زبان پر نہیں لایا اور صبر و تسلیم کے رنگ میں ہر وقت دینی امور کی سرانجام دہی کے لئے مستعد رہے۔آپ نے سالہا سال تک مسجد اقصیٰ قادیان میں رمضان المبارک میں درس دیا۔کئی دفعہ شدید دماغی محنت کے باعث اعصابی دورہ کا حملہ ہوجاتا اور آپ کی آنکھوں اور چہرہ پر شیخ کی کھچاوٹ پیدا ہو جاتی لیکن آپ ایسی حالت میں بھی درس القرآن میں مصروف رہتے۔بعض دوست ہمدردی کے باعث آرام کا مشورہ دیتے تو آپ پنجابی زبان کی کہاوت بیان کرتے۔جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر گڑ کھاتے ہوئے کسی کی موت واقعہ ہو تو ہونے دو اور فرماتے کہ اگر میری موت کلام الہی سُناتے ہوئے واقع ہو جائے تو اس سے بڑھ کر اور کیا سعادت ہوگی۔ایسی اعصابی بیماریوں میں آپ نے دور دراز کے سفر کئے اور نامساعد حالات میں تبلیغی مہمیں اختیار کیں اور ان تکالیف کو نہایت خندہ پیشانی اور صبر سے برداشت کیا۔چنانچہ اس بارہ میں مکرم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی کا ذیل کا مضمون قابل مطالعہ ہے۔