اصحاب احمد (جلد 8) — Page 32
۳۲ نعرے بلند کرنے لگے لیکن الفاظ پورے نہ نکلے تھے کہ کرسی اُلٹی اور ان کا سر نیچے اور ٹانگیں اوپر ہو گئیں اور پگڑی دُور جا پڑی اور ان کے ساتھیوں نے جن کو مولوی مذکور نے یہ غلط اطلاع دی تھی که قادیانی علماء عربی بالکل نہیں جانتے مولوی مذکور کی اس دروغ گوئی کے باعث مملوں اور لاتوں سے ایسی درگت بنائی کہ الامان والحفیظ۔سادگی حضرت مولوی صاحب نے ظاہری اعتبار سے انتہائی سادگی میں زندگی گزاری یہاں تک کہ بادی النظر میں آپ کے لباس کو دیکھ کر جود یہاتی وضع کا ہوتا ہے کوئی آپ کے تبحر علمی کا اندازہ نہیں کر سکتا۔جناب سردار دھر مانت سنگھ صاحب پر نسل سکھ مشنری کالج امرتسر نے بیان کیا کہ میں قادیان جلسہ سالانہ میں شریک ہوا۔جب حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو میں نے اور میرے ساتھیوں نے آپ کی نہایت سادہ وضع قطع اور لباس کو دیکھ کر سٹیج سے باہر جانا چاہا لیکن جب ہم اُٹھ کر باہر جارہے تھے تو آپ کی تقریر کے ابتدائی فقرات ہمارے کانوں میں پڑے جو اس قدر پر تاثیر اور جاذب توجہ تھے کہ ہم رُک گئے اور آپ کی تقریر سننے کے لئے بیٹھ گئے اور آپ نے جو حقائق و معارف اپنی تقریر میں بیان فرمائے اس سے ہمیں بہت ہی لطف آیا۔چنانچہ تقریر کے بعد ہم آپ کے گھر پر بھی آپ سے عارفانہ نکات سنتے رہے اور ہمیں محسوس ہوا کہ آپ کے نہایت سادہ لباس کے اندر معرفت الہی اور نور و برکت کا مجسمہ پنہاں ہے۔پھر تو جب بھی ہم قادیان آتے تو حقائق و معارف سننے کے لئے اکثر آپ کے پاس حاضر ہوتے۔مکرم چوہدری حسن دین صاحب باجوه ( در ولیش ) ذکر کرتے ہیں کہ جن ایام میں حضرت مولوی صاحب سے محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بالقابہ لاہور میں بعض عربی کتب پڑھتے تھے تو اس وقت میں محترم چوہدری صاحب کے ہاں ملازم تھا اور آپ نے مجھے تاکید فرما رکھی تھی کہ بوجہ حضرت مولوی صاحب کی سادگی کے آپ کے اعزاز و احترام میں میں فرق نہ آنے دوں کیونکہ آپ کا مقام بہت بلند اور عظیم القدر ہے۔جلسه سالانه ۱۹۵۰ء پر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے حضرت مولانا راجیکی صاحب