اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 13 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 13

۱۳ جرأت ہو گئی۔حضور مسجد میں تشریف فرما ہوتے تو آپ عموماً حضور کے پاس بیٹھ جاتے اور حضور کا جسم مبارک دبانے لگتے۔مولانا راجیکی صاحب قادیان میں تھے کہ ایک احمدی دوست کا افریقہ سے خط آیا کہ اس علاقہ میں سانپ بہت زیادہ ہیں کیا کیا جائے۔حضرت اقدس نے جوا با فرمایا کہ آخری تین قل رات کے وقت پڑھ کر جسم پر پھونک لئے جائیں۔بقیہ حاشیہ: - بیعت کر چکے تھے۔حسن اعتقاد والا بھی ایسا خط لکھ سکتا ہے۔دیگر قرائن قویہ صادقہ ہی خط کے متعلق فیصلہ کر سکتے ہیں۔دوم : - مولانا امام الدین صاحب کا ایک بیان یہ ہے کہ وہ عُرس پر بٹالہ آئے اور وہاں سے پہلی بار قادیان آئے اور ایک یہ بیان ہے کہ ہمشیرہ صاحبہ سے امرتسر کسی تقریب پر ملنے آئے تو وہاں سے بٹالہ پیر صاحب کو ملنے آئے اور وہاں سے پہلی بار قادیان آئے۔ان ہر دو بیانات میں کوئی اختلاف نہیں۔اس ایک ہی سفر میں امرتسر کی ملاقات اور بٹالہ کا عرس دونوں مد نظر رکھے گئے ہوں گے۔سوم :- حضرت مولانا امام الدین صاحب کے ایک شاگر دمکرم مولوی غلام رسول صاحب و نیس کا بیان ۳۵-۴-۲۱ کے الحکم میں درج کرتے ہوئے مکرم ایڈیٹر صاحب لکھتے ہیں :- باوجود کافی عمر کے آپ ابھی جوان معلوم ہوتے ہیں۔اور چہرے پر ابھی تک جوانی کی لہر دوڑتی ہے۔“ گویا آپ کا بیان ضعف پیری کے آثار سے مبرا ہے۔حضرت مولوی امام الدین صاحب کا بیان ۱۹۳۱ء والا صرف چار سال قبل کا ہے۔اور دوسرا بیان الحکم ۳۴-۶-۷ میں صرف دس ماہ قبل کا ہے۔استاد و شاگرد کی عمر میں کافی فرق ہے۔نیز مکرم و منیس صاحب کا بیان پڑھنے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ تمام واقعات اور تاریخیں پورے وثوق سے انہوں نے بیان کی ہیں اور ان کے بیان کے کئی اجزاء مکرم مولا نا امام الدین صاحب کے بیانات سے متفق ہیں۔مولا نا امام الدین صاحب اور قاضی اکمل صاحب کے بیانات کا حال وہ ہے جو مذکور ہوا۔خصوصآًمولانا صاحب کا حضرت اقدس سے اولین ملاقات کے متعلق بھی شک میں پڑنا کہ کس