اصحاب احمد (جلد 8) — Page 12
۱۲ کے ارد گرد ہوتے تھے۔آپ کو دو تین دن تک حضرت اقدس سے شرف ملاقات حاصل نہ ہو سکا۔چنانچہ آپ نے حضور کی خدمت میں اس بارہ میں رقعہ بھیجا۔حضور مسجد مبارک میں تشریف لائے۔تو آپ کو دیکھتے ہی فرمایا کیوں جی! آپ اتنے دنوں سے آئے ہوئے ہیں اور ابھی تک ملے نہیں۔مولوی صاحب نے اس کی وجہ جو رقعہ میں لکھی تھی دُہرا دی۔فرمایا خواہ کوئی بھی ہو آپ میرے پاس آ کر بیٹھا کریں۔چنانچہ ان بزرگوں نے بھی یہ بات سُن لی اور آپ کو بھی بقیہ حاشیہ: - بعد کی بتاتے ہیں۔مولانا راجیکی صاحب اپنی بیعت ۱۸۹۷ء کی بیان کرتے ہیں اور مکرم و فیس صاحب کے بیان سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔اور مولا نا امام الدین صاحب نے مولانا راجیکی صاحب کی بیعت اپنی بیعت کے بعد ہونے کے متعلق اپنے بیانات میں کچھ نہیں کہا۔بلکہ یہی تاثر دیا ہے کہ مولا نارا جیکی صاحب کو حضور کی صداقت کا پہلے ہی یقین تھا۔محترم قاضی اکمل صاحب کے اپنے بیانات اہم امور میں آپس میں اختلاف رکھتے ہیں۔مثلاً ( بیان دوم کا ذکر خطوط وحدانی میں کیا گیا ہے ):- (1) والد صاحب کی پہلی زیارت غالباً ۱۸۹۴ء میں ہوئی۔( پہلی زیارت کے موقع پر والد صاحب کو غالبا ر سالہ نور القرآن ملا جس کے دونوں حصے ۱۸۹۵ء کی تصنیف ہیں۔مولف ) (۲) پہلی زیارت کے موقع پر والد صاحب کو کتاب شہادۃ القرآن ملی۔( غالبًا رسالہ نور القرآن ملا۔(۳) والد صاحب بیعت کر کے رسالہ نور القرآن ساتھ لائے ( پہلی زیارت کے موقع پر والد صاحب غالبا نور القرآن لائے۔جس کے بعد استخارہ کر کے بیعت کی۔) (۴) مولانا امام الدین صاحب کے بیان کے مطابق ان سے پہلے مولانا راجیکی صاحب صداقت حضرت اقدس کے قائل ہو چکے تھے۔بلکہ مولا ناراجیکی صاحب کی رؤیا ان کو یقین پیدا کرانے میں ان کی ممد ہوئیں۔لیکن قاضی اکمل صاحب اس کی تردید کرتے ہیں۔مزید کچھ بیان کرنے سے قبل میں چند امور کی طرف توجہ دلاتا ہوں :- اول :- الرجنوری ۱۸۹۷ء کے خط سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس وقت حضرت مولوی امام الدین صاحب