اصحاب احمد (جلد 8) — Page 131
۱۳۲ بوجہ انفلوئنزا حضور کی علالت جب اکتوبر ۱۹۱۸ء کا دوسرا ہفتہ آتا ہے تو خاکسار کو ایک روز اس مضمون کا تارا چا نک ملتا ہے کہ حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز انفلوئنزا کے حملہ سے سخت بیمار ہیں۔آپ جلد قادیان آجائیں۔میں فوراً جانے کے لئے تیار ہو گیا اور حصول رخصت کے لئے اپنے افسر سول سرجن کی کوٹھی پر گیا۔اوّل تو وہ انکاری ہوا کہ وبائے انفلوئنزا کیوجہ سے ڈاکٹروں کی ہر جگہ ضرورت ہے اور سخت ضرورت ہے لیکن میرے اصرار پر بمشکل تمام صرف دو یوم کی رخصت منظور کی میں نے اسی کو غنیمت جان کر اسی شام کو قادیان کی راہ لی اور اگلے روز ظہر کے وقت قادیان پہنچ گیا۔ایک دن کی رخصت تو سفر کی وجہ سے ختم ہوگئی تھی۔اس لئے میں زیادہ سے زیادہ چوبیس گھنٹے قادیان میں ٹھہر سکتا تھا لیکن حضرت صاحب کی طبیعت متقاضی تھی کہ میں کچھ دن ٹھہر کر طبی خدمت کروں۔اس وجہ سے میں نے ایک ہفتہ ٹھہرنے کی اور نیت کر لی اور ایک ہفتہ کی رخصت کی درخواست از خود بھیجدی۔حضرت صاحب کو پتہ نہ دیا کہ میری رخصت صرف دو دن کی تھی۔میرے پہنچنے کے تیسرے روز میرے بڑے بھائی صاحب سول سرجن کے مجبور کرنے پر مجھے واپس لے جانے کے لئے قادیان آ پہنچے مگر میں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور ان کو واپس بھیجدیا۔جب ہفتہ میں سے بھی چار پانچ دن گذر گئے تو میں نے حضور کو اطلاع دی کہ رخصت کا یہ حال ہے۔تب حضور نے فوراً حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کومزید رخصت کی منظوری حاصل کرنے کے لئے پٹیالہ بھجوا دیا۔شیخ صاحب تین ماہ کی رخصت منظور کروانے میں کامیاب ہو گئے اور میں اطمینان سے خدمت میں لگ گیا۔اس سوا تین ماہ کے کوائف یہ ہیں :- -1 میری رہائش اسی دالان میں رہی جس میں حضرت امیر المؤمنین حالت بیماری میں رہتے تھے جو حضرت اماں جان کا دالان تھا۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رہائش کا کمرہ تھا جس کے ساتھ بیت الدعاء الحق ہے۔رات کو فقط میں ہی حضور کے پاس ہوتا تھا۔