اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 3 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 3

بھی بیعت کی حمید مولا نا راجیکی صاحب اس پہلی ملاقات کا واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ مسجد مبارک کے زینہ سے چڑھتے ہوئے میں تو نذرانہ پیش کرنے کے لئے رقم نکالنے لگا اور حضرت مولوی صاحب حضرت اقدس کی خدمت میں جا پہنچے۔حضور نے مصافحہ کا شرف بخشتے ہی فرمایا : - وہ لڑکا جو آپ کے پیچھے آرہا تھا اس کو بلاؤ۔“ چنانچه مولوی امام الدین صاحب واپس لوٹے اور مجھے کہنے لگے کہ حضور آپ کو یاد کرتے حمد سوانح اصحاب احمد میں زیادہ تر توجہ اس امر کے محفوظ کرنے کی طرف رہتی ہے کہ حضرت مسیح موعود سے وابستگی سے کیا کیا روحانی اور اخلاقی انقلاب صحابہ کرام کی زندگیوں میں رونما ہوا۔گوتاریخی پہلو بھی یکسر نظر انداز نہیں ہوتا۔کیونکہ ہر ایک امر کا محور حضرت مسیح موعود کی ذات ہوتی ہے اس لئے ایک مؤرخ کا فرض ہے کہ تاریخی امور پر گہری نظر ڈالے تا غلطی نہ ہو یا اگر کسی سہو ونسیان کے باعث التباس پیدا ہو چکا ہو تو اس کی تصحیح کر دی جائے۔چونکہ مولا ناراجیکی صاحب اور آپ کے استاد حضرت مولا نا امام الدین صاحب کے بیعت کے متعلق بیانات میں اختلاف ہے اس لئے میں اس موقع پر مطبوعہ بیانات کی روشنی میں اپنی رائے ظاہر کرتا ہوں جس سے مقصود کسی بزرگ کی تنقیص نہیں۔بلکہ محض اظہارِ حقیقت ہے اور یہ امر بھی مطلوب ہے کہ احباب میں تاریخی تحقیق کا ذوق بڑھے۔اور میں نے اپنی تالیفات میں مناسب مواقع پر ایسی تاریخی تحقیق پیش کی ہے۔حضرت مولانا راجیکی صاحب کا بیان متن کتاب میں درج ہو چکا ہے۔یہاں حضرت مولا نا امام الدین صاحب اور آپ کے فرزند مکرم قاضی محمد ظہور الدین صاحب (اکمل ) کے دودو بیانات اور شاگرد مکرم مولوی غلام رسول صاحب وینس سکنہ لنگے (ضلع گجرات) کے بیان کے خلاصے درج کرتا ہوں :- بیان حضرت مولوی امام الدین صاحب نوٹ: ( بیان اول آپ کا مضمون جو ذکر حبیب کی مجلس کے لئے آپ نے ۳۱-۴-۱۲ کو