اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 115 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 115

کر سکتی۔دیکھو میری دعا ئیں عرش پر بھی سنی جاتی ہیں۔میرے ساتھ لڑائی کرنا خدا سے لڑائی کرنا ہے۔فرشتے بن کر اطاعت اور فرمانبرداری اختیار کرو۔ابلیس نہ بنو۔۲۱ الغرض ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کو خلافت قائم ہوئی جو آج تک بفضلہ تعالیٰ قائم ہے اور خلافت ثانیہ کی برکات ہم سب کے سامنے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کی اہلی زندگی ڈاکٹر صاحب محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے والد ماجد کا یہ ایک خاص احسان تھا کہ باوجود کثیر العیال ہونے اور اپنے بڑھاپے کے انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی شادی چودہ سال کی عمر میں کر دی اور دونوں کا خرچ اور ڈاکٹر صاحب کی تعلیم کا خرچ چھ سال تک یعنی اپنی وفات تک برداشت کرتے رہے۔۱۹۰۷ ء میں جس روز دسویں کا نتیجہ نکلا اور آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب ہوئی۔اس سے دوسرے روز ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ کی وفات ہوگئی۔یہ بہت دنوں سے بیمار چلی آ رہی تھیں۔ڈاکٹر صاحب امتحان کی تیاری میں مصروف تھے اور شہر سے باہر جا کر امتحان میں کامیابی اور اہلیہ کی صحت کے لئے دعا کرتے تھے۔ایک روز سجدہ میں دعا کرتے ہوئے یہ آیت زبان پر جاری ہوگئ مَا نَنْسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْ تُنْسِهَا نَاتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۲۲ اس پر آپ سمجھ گئے کہ اہلیہ وفات پا جائیں گی۔گویا غم کی خبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر یا ویسی ہی رفیقہ ء حیات عطا کرنے کی خوشخبری بھی ساتھ ہی دے دی۔چنانچہ ۱۹۱۰ء میں جب کہ ابھی ڈاکٹر صاحب کی ڈاکٹری تعلیم کے دو سال باقی تھے آپ کی پھوپھی صاحبہ کی صاحبزادی محترمہ فاطمہ امتہ الحفیظ صاحبہ سے شادی ہوئی۔موصوفہ قرآن مجید کے ترجمہ سے واقف، کتب سلسلہ کے مطالعہ کا شغف رکھنے والی ، اقارب سے حسنِ سلوک کرنے والی ، حضرت ام المومنین اور خاندان حضرت مسیح موعود ( سیدہ ام ناصر سیدہ امتہ الحی ، سیدہ ام طاہر اور سیده ساره بیگم و دیگر افراد سے گہرا تعلق رکھنے والی ہیں اور ان سب کا بھی آپ سے محبت کا سلوک رہا ہے۔اولا د کی نیک تربیت کا بوجھ آپ نے پوری طرح اٹھایا اور اس طرح حضرت ڈاکٹر صاحب کو سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی سفر و حضر میں خدمت کے لئے چالیس اکتالیس