اصحاب احمد (جلد 8) — Page 116
112 سال سے فارغ رکھا۔محترمہ کے والدین کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔وہ خود احمدی تھے۔باوجود اس کے آپ نے دس سال کی عمر میں خط کے ذریعہ حضرت مسیح موعود کی بیعت کی تھی اور خلافت اولی اور ثانیہ کی اولین بیعت کرنے والی ہیں۔موصوفہ نے چندہ مسجد برلن میں ۱۹۲۳ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی نصف لاکھ روپیہ کی تحریک پر بیس روپے ادا کئے کہ ان ایام میں روپیہ کی قیمت بہت زیادہ تھی اور کارکنان صدر انجمن احمدیہ کی حالت سخت مخدوش تھی اور گذارے نہایت قلیل تھے۔کتاب تحریک جدید کے پانچہزاری مجاہدین میں آپ کا اور محترم ڈاکٹر صاحب اور خوردسال بچگان کا چندہ تحریک جدید آپ کی بڑی صاحبزادی اور ڈاکٹر محمد احمد صاحب کے چندہ جات قریباً ساڑھے دس صد شامل کئے بغیر دو ہزار تمیں روپے نو آنے ہیں۔۲۳ ظاہر ہے کہ اولاد کی تعلیم اور چندہ وصیت کے اخراجات ادا کرتے ہوئے ایسی گرانقدر رقم تحریک جدید میں بھی ادا کر نا رفیقہ ء حیات کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔تحمیل تعلیم ڈاکٹری حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تدفین کے بعد دل یہی چاہتا تھا کہ قادیان میں رہ پڑوں اور خدمت دین پر لگ جاؤں لیکن اس وقت میرے ایک دوست ماسٹر عبدالعزیز خاں صاحب نے مشورہ دیا کہ پہلے تم اپنی تعلیم مکمل کر لو۔پھر بھی خدمت دین کا موقع نکل سکتا ہے۔چنانچہ میں لاہور چلا گیا۔افسردہ بلکہ نیم مردہ تھا۔تھوڑی دیر بھی مطالعہ کرنے کی سکت نہ تھی۔ڈیڑھ دو ماہ بعد پہلے سیشن کا امتحان ہوا۔ایک مضمون میں ۱۴۰/ ۴۸ اور دوسرے میں ۱۴/۱۲۰نمبر آئے۔میں نے محنت جاری رکھی۔مجھے بورڈنگ میں جگہ مل گئی۔جہاں دیگر سہولتوں کے علاوہ دعاؤں کا موقع ملا۔چنانچہ پہلے سالانہ امتحان میں زمین و آسمان کا سا فرق پیدا ہو گیا کہ میں ایک مضمون میں اول آ گیا۔یہ محض تائید الہی سے ہوا۔دوسرے سال ایک مضمون میں دوئم رہنے کی وجہ سے تمغہ حاصل ہوا۔آپ کا وعدہ الفضل مورخہ ۲۲ فروری ۱۹۲۳ء صفحہ الف کالم تین میں درج ہے۔(مؤلف)