اصحاب احمد (جلد 8) — Page 114
۱۱۵ افراد خاندان حضرت مسیح موعود میں موجود ہیں۔جیسا کہ صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب، نواب محمد علی خان صاحب، میر ناصر نواب صاحب وغیرہ۔میں تو یہاں تک بھی تیار ہوں کہ اگر صاحبزادی امتہ الحفیظ کو ہی چن لیا جائے تو میں تو اس کے ہاتھ پر بھی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔مگر جماعت چونکہ مجھے مجبور کر رہی ہے۔اس لئے میں بیعت لیتا ہوں۔اس کے بعد حضور نے حاضرین سے بیعت لی۔پھر جنازہ پڑھایا۔جس میں خاکسار بھی شریک تھا۔اس کے بعد جسد مبارک کو سپرد خاک کیا گیا۔گویا جماعت احمدیہ کو خلیفہ کے انتخاب کا عزم کرنے کا موقع ملا اور جماعت کی نظر انتخاب حضرت مولوی نور الدین صاحب پر پڑی اور باتفاق رائے آپ کو خلیفہ مان لیا۔اس میں سب سے بڑا کمال حضرت ام المومنین کا نظر آتا ہے۔پھر حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا اور تمام افراد خاندان حضرت مسیح موعود کا۔الغرض ۲۶ مئی کے اندوہناک دن کے بعد ۲۷ رمئی کا دن جماعت کے لئے بڑا ہی مبارک دن تھا۔جس میں خلافت کی بنیاد پڑی اور ان کے ہاتھوں سے پڑی جنہوں نے بعد میں امر خلافت سے انحراف کیا۔کیا ہی سچی خبر تھی قدرت ثانیہ کی آمد کے متعلق کہ ایک دن بھی پورانہ گذرا تھا کہ احباب جماعت کے قلوب کو عقل و فراست اور پاک مومنانہ روح سے بھر دیا جاتا ہے۔جنہوں نے حضرت مولوی صاحب جیسے پاک وجود کو اپنا خلیفہ چن لیا۔پھر تمام کی تمام جماعت نے بیعت کر لی اور اس طرح پر جماعت کی اعلیٰ درجہ کی شیرازہ بندی ہوگئی اور بدخواہ دشمن منہ دیکھتارہ گیا۔حضرت مولوی صاحب کا وجود اس منصب کے لئے نہایت مناسب اور بابرکت ٹھہرا جبکہ احباب کی ارادت اور محبت قریباً اسی طرح نظر آنے لگی جس طرح حضرت مسیح موعود کے ساتھ نظر آتی تھی۔پھر آپ کے وجود میں اللہ تعالیٰ نے وہ قوت بھر دی کہ جب انہی لوگوں میں سے بعض نے جو انتخاب خلافت کے وقت پیش پیش تھے ذرہ مخالفانہ سر اٹھایا تو حضور نے بآواز بلند فرمایا کہ جس طرح ابو بکر اور عمر خلیفہ ہوئے تھے اسی طرح خدا تعالیٰ نے مجھے حضرت مرزا صاحب کے بعد خلیفہ بنایا۔یاد رکھو خلافت کیسری کی دوکان کا سوڈا واٹر نہیں ہے۔میری زندگی میں اب کوئی اور شخص خلیفہ نہیں بن سکتا۔مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے۔اب کوئی طاقت مجھے معزول نہیں