اصحاب احمد (جلد 8) — Page 71
روایات (نوٹ: روایات ذیل خاکسار نے بعینہ درج کی ہیں۔البتہ خطوط وحدانی والے الفاظ خاکسار مؤلف نے زائد کئے ہیں) (۱) محترم چوہدری صاحب رقم فرماتے ہیں :۔ایک دفعہ میں (موضع ) منگل ( باغباناں نزد قادیان ) کی طرف ایک کنوئیں پر بیٹھ کر حقہ پی رہا تھا۔میں اس زمانہ میں حقہ پیا کرتا تھا۔بعد میں چھوڑ دیا کہ ایک بوڑھا زمیندار میرے پاس آبیٹھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ (وہ) کس جگہ کا رہنے والا ہے اس نے کہا کہ قادیان کا میں نے پوچھا کہ تم مرزا صاحب سے بڑے ہویا چھوٹے۔اس نے کہا کہ ایک دو سال میں بڑا ہوں گا یا مرزا صاحب۔میں نے اس سے کہا کہ مرزا صاحب کی کوئی بچپن کی بات سناؤ۔اس نے کہا کہ بچپن میں آپ بہت سادہ لوح ہوتے تھے اور ان کو کچھ نہیں آتا تھا۔کھیل کے وقت صرف ہمارے کپڑوں کی رکھوالی کیا کرتے تھے۔ان کو کوئی کھیل نہ آتی تھی۔اب تو آپ بہت چالاک ہو گئے ہیں۔اشتہار لکھ لکھ کر آپ نے دنیا کولوٹ لیا ہے۔کیا آپ کو بھی اشتہار بھیجا کرتے تھے؟ میں نے کہا ہاں بھیجا کرتے ہیں۔ان دنوں میں نارووال کی طرف سے ایک مولوی آئے ہوئے تھے۔میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کس طرح بیعت کی۔انہوں نے جواب دیا میں آیا کرتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بحث کر کے واپس چلا جاتا تھا۔جب تیسری دفعہ میں واپس گیا تو مجھے خواب میں ایک کاغذ دکھایا گیا۔جس پر خوبصورت حروف میں یہ لکھا ہوا تھا۔سادہ لوح سے اس کی مراد سادہ طبع ہے یعنی جو چالاک نہ ہو۔جیسا کہ اگلا فقرہ ظاہر کرتا ہے دیہات کے ان پڑھ لوگ ” خالص اور سادہ طبع کو سادہ لوح کہہ دیتے ہیں اور ایک حصہ کے معنی ہی مراد لیتے ہیں۔(مؤلف)