اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 61 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 61

۶۱ جائے تو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک عمارت کے سامنے کھڑا ہوں اور ایک شخص اس کی طرف اشارہ کر کے کہ رہا ہے کہ اگر آپ ایک ایک اینٹ کر کے اس عمارت سے نکال دیں گے تو یہ عمارت گر جائے گی۔اس خواب پر میں نے ان احباب کو جماعت سے نکالنے کا ارادہ ترک کر دیا اب میں دیکھتا ہوں کہ وہ دوست سجن کو منافق کہا جاتا تھا میرے مخلص احباب میں سے ہیں۔حضور سے یہ سُن کر میں نے اللہ تعالیٰ کا بہت بہت شکر ادا کیا کہ اس نے اپنے فضل سے مجھے سلسلہ کی عمارت کی ایک اینٹ قرار دیا۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ مکرم چوہدری صاحب کا خواب حضور کے الہام انا المسيح الموعود مثيله و خليفة ١٣ کے مطابق ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے چوہدری صاحب کو استقامت عطا فرمائی اور لغزش سے محفوظ رکھا۔قادیان میں تجارت کا آغاز احباب اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ آج سے قریباً پینتیس برس قبل مسلمان تجارت سے بالکل غافل تھے۔جیسے لوہا لوہا گرم ہونے پر اپنی مرضی کے موافق ڈھال لیتا ہے اسی طرح حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بعض ایسے حالات پیدا ہونے پر جن کے بیان کا یہاں موقع نہیں مسلمانانِ ہند کو تجارت کی تلقین کی اور بہ تو اتر تلقین کی۔جس کے شاندار نتائج جلد ہی نکلنے شروع ہو گئے تھے اور بالآخر یہ امر مسلمانوں کی تجارت کے فروغ کے ذریعہ ان کے تمول اور اقتصادی استحکام پر منتج ہونے لگا۔قادیان میں اس تحریک کا آغاز سات آٹھ سال پہلے ہو چکا تھا۔چنانچہ چوہدری صاحب بیان کرتے ہیں کہ ابتدا میں قادیان میں ساری تجارت ہندوؤں کے ہاتھ میں تھی اور احمدیوں کی صرف دو تین دو کا نہیں تھیں اور وہ بھی بہت کمزور حالت میں تھیں۔میں نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمیں کوئی کو اپر سیٹ سٹور کھولنا چاہئے۔جو احمدیوں کی ضروریات پورا کر سکے۔حضور کے ارشاد پر میں نے قواعد بنائے۔حضور کی مقرر کردہ ایک کمیٹی نے انہیں دیکھا