اصحاب احمد (جلد 8) — Page 60
مقرر ہوئے۔اس غرض سے کہ میری علیحدگی سے ان کو سیکنڈ ماسٹر بننے کا موقع مل جائیگا۔انہوں نے میرے متعلق یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ میں نعوذ باللہ منافق ہوں۔مجھے اس سے بہت رنج ہوا۔میں نے ارادہ کیا کہ سرکاری ملازمت اختیار کرلوں اور جب میں باہر سے قادیان آیا کروں گا تو پھر مجھے کوئی بھی منافق نہ سمجھے گا۔چنانچہ مجھے گورنمنٹ ہائی سکول امرتسر میں ملازمت مل گئی۔اس پر میں نے ارادہ کیا کہ میں ہمیں روز تک دعا کر کے جانے یا رہنے کے متعلق فیصلہ کروں گا۔پانچ روز دعا کرنے کے بعد میں نے خواب دیکھا کہ میں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں پڑھا رہا ہوں اور میری دو گھنٹیاں خالی ہیں۔ان میں میں ہائی سکول سے شہر قادیان چلا گیا۔وہاں ایک کمرے میں دو چار پائیاں بچھی ہیں۔ان میں سے ایک پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغرب کی طرف منہ کر کے چوکڑی مار کر بیٹھے ہوئے ہیں۔میں دوسری چار پائی پر بیٹھ گیا۔میں حضور کی گفتگو سننے میں اس قدر مشغول ہوا کہ سکول جانا بھول گیا۔جب دیر کے بعد مجھے یاد آیا تو میں گھبرا کر کھڑا ہو گیا اور حضور سے مصافحہ کیا۔حضور نے میرے ہاتھ کو پکڑے رکھا۔مجھے خیال آیا کہ جب تک دوسرا آدمی ہاتھ ڈھیلا نہ کرے۔حضور ہاتھ نہیں چھوڑا کرتے اس لئے میں نے چھوڑنے کے لئے ہاتھ ڈھیلا کیا۔حضور نے میرے ہاتھ کو اور مضبوطی سے پکڑے رکھا اور مجھے ٹھہرانے کے لئے اونچی آواز سے دعا کرنی شروع کی۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے خدا! اس کو قادیان رہنے کی توفیق دے۔اس کے بعد حضور نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور میں سکول کی طرف روانہ ہو گیا۔ریتی چھلہ میں پہنچا تو سوچا کہ میں نے قادیان سے چلا جانے کا ارادہ کیوں کیا تھا۔پھر میں نے دل میں کہا کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہیں باہر گئے ہوئے تھے اور ان کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ ہوئے تھے۔ان کی وفات پر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ہوئے اور بعض لوگوں نے مجھے منافق کہنا شروع کر دیا تھا اس لئے میں نے باہر چلا جانے کا ارادہ کیا تھا۔مگر چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام واپس آگئے ہیں اس لئے اب باہر جانے کی ضرورت نہیں۔اس خواب کے بعد باہر کی ملازمت سے میں نے انکار کر دیا۔اس کے قریباً دو سال کے بعد میری موجودگی میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک مجلس میں ذکر کیا کہ میری خلافت کے ابتدا میں بعض دوستوں کے متعلق مجھے کہا گیا تھا کہ وہ منافق ہیں ان کو نکال دیا