اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 20 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 20

لیکن کسی معذوری کی وجہ سے آپ شامل نہ ہو سکے اور دہلی نہ جاسکے۔حضور کے دعوئی سے قبل آپ نے بیعت کے لئے عرض کیا تھا اور دعوئی کے بعد بیعت کی اور نہایت مخلصین میں سے ثابت ہوئے۔آپ کھو کھر قوم کے زمیندار تھے اور دوصدا یکڑ اراضی کے مالک تھے۔عربی اور فارسی علوم اور فن طبابت میں مہارت رکھتے تھے۔اور ذاتی وجاہت اور حسنِ اخلاق کے مالک تھے۔والدین کی اطاعت اور اقربا پروری کے جذبہ سے آپ سرشار تھے۔چنانچہ آپ نے اپنی زرخرید جائیداد میں بھی اپنے تینوں بھائیوں کو شریک کیا۔ہمدردی مخلوق کے خیال سے ایک رئیس زمیندار کے علاج کے معاوضہ میں پچپیس ایکڑ اراضی لینے کی بجائے اس سے سانپ کاٹے کے علاج کا ایک مجرب نسخہ لے لیا اور اپنے ذاتی فائدہ پر مخلوق کی خدمت کو ترجیح دی۔آپ کی نظر موتیا سے بند ہوگئی تو آپ کی درخواست پر حضرت اقدس نے دعا فرمائی اور مطلع کیا کہ دوسرے دو ایسے احباب کے متعلق دعا قبول ہو گئی ہے لیکن آپ کے حق میں قبول نہیں ہوئی اور یہ بھی تحریر فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”جس شخص کی دونوں آنکھوں کی بینائی کھو جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کرے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کا وارث بناتا ہے۔اگر چہ آپ کے بعض احباب واقارب نے کئی دفعہ اپریشن کرانے کے لئے کہا لیکن حضرت مولوی صاحب نے حضور کے ارشاد اور منشائے ایزدی کی تعظیم کی خاطر علاج نہیں کرایا اور نہایت صبر واستقلال سے تکلیف برداشت کی۔حضرت مولانا راجیکی صاحب کے ہاں دس بچے پیدا ہوئے جن میں سے ذیل کے جوانی کو پہنچے:۔اقبال احمد صاحب ، صفیہ بیگم صاحبہ، مولوی مصلح الدین احمد صاحب (مدفون بہشتی مقبرہ) ربوہ۔زینب قدسیہ صاحبہ، مولوی برکات احمد صاحب بی-اے ( ناظر امور عامه و خارجیہ، قادیان ) میاں مبشر احمد صاحب اور عزیز احمد صاحب۔حضرت خلیفہ اول کی نوازشات حضرت اقدس کے عہد میں جب بھی مولوی صاحب قادیان آتے تو حضرت