اصحاب احمد (جلد 8) — Page 19
۱۹ کی طرف دیکھا تو اُن کی یہ بیماری اسی وقت دُور ہوگئی۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت بابرکت میں بارہا حاضر ہونے کا موقع ملتا رہا۔آپ بیان کرتے ہیں کہ ان بابرکت ایام میں نمازوں میں نمازیوں کے خشوع و خضوع ، رقت قلب اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ گڑ گڑانے اور آہ و بکا کرنے کا شور مسجد مبارک میں بلند ہوتا تھا۔دُعا کرنے پر جواب بھی فورا مل جاتا۔خواہ رات کو رؤیا کے ذریعہ یا کشفی طور پر بیابذریعہ الہام۔آپ کی اہلی زندگی آپ کو کئی رشتے پیش ہوتے رہے لیکن استخارہ سے وہ مناسب حال معلوم نہ ہوئے اور نتیجةً بعد میں ان کے بے برکت ہونے کا یقینی علم بھی حاصل ہو گیا۔ایک دفعہ آپ ایک دوست کے ساتھ موضع حافظ آباد پہنچے۔حضرت مولوی جلال الدین صاحب مرحوم کے صاحبزادہ مکرم حکیم محمد حیات صاحب نے اپنی والدہ صاحبہ کے لئے دعا کرنے کی تحریک کی جو عرق النساء سے علیل تھیں اور بہت تکلیف میں تھیں۔آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور قرآن کریم کی سورتوں سے دم بھی کیا جس سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو شفا ہوگئی۔رات حکیم صاحب نے خواب دیکھا کہ اُن کے گھر میں اچانک ایک بہت بڑا چراغ روشن ہوا ہے جس کے متعلق ایک فرشتہ نے بتایا کہ یہ چراغ مولوی غلام رسول صاحب ہیں جو تمہارے گھر آئے ہیں۔چنانچہ حکیم صاحب نے اپنی چھوٹی ہمشیرہ محترمہ عزیز بخت صاحبہ کا رشتہ باصرار پیش کیا۔جو بعد استخارہ مولوی صاحب نے قبول کر لیا۔یہ عجیب توارد ہے کہ حضرت مولانا راجیکی صاحب کی ولادت کے تعلق میں آپ کی والدہ ماجدہ نے بھی یہ خواب دیکھا تھا کہ گھر میں ایک ایسا چراغ روشن ہوا ہے کہ جس کی روشنی سے سارا گھر جگمگا اٹھا ہے۔حضرت مولوی جلال الدین صاحب آپ کے رشتہ سے قبل وفات پاچکے تھے۔براہین احمدیہ کی خریداری میں انہوں نے حصہ لیا تھا اور آپ کا نام خریداروں میں درج ہے۔اس وقت آپ مظفر گڑھ میں ملازم تھے۔حضور نے آپ کو اپنی برات میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی تھی