اصحاب احمد (جلد 8) — Page 11
قبول کرنے سے اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرما دیتا ہے۔جیسا کہ حدیث شریف میں اسلمت بما اسلفت ۵ آتا ہے۔ایک دفعہ آپ قادیان آئے تو شرمیلا پن کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ بزرگانِ سلسلہ حضور بقیہ حاشیہ ہوتا ہے کہ پیر صاحب نے قادیان جانے کی اجازت دی تھی۔جیسا کہ حضرت مولوی صاحب کا بیان ہے۔پیر صاحب سمجھتے تھے کہ یہ مولوی ہیں اور میرے پکے معتقد ہیں اور حضرت مرزا صاحب کو نہیں مانیں گے۔لیکن پیر صاحب یہ سُن کر جل گئے کہ مولوی صاحب نے قادیان میں ایک احمدی امام کی اقتداء میں نماز ادا کر لی ہے اور ان کو خطرہ پیدا ہوا کہ احمدیت کی طرف مولوی صاحب مائل نہ جائیں۔چنانچہ مولوی امام الدین صاحب کے ایک بیان میں یہ مذکور ہے کہ میں نے اس خیال سے نماز دہرالی کہ میری نماز نہیں ہوئی اور دوسرے بیان میں کہتے ہیں کہ بحکم علمائے وقت میری نماز نہیں ہوئی۔اس لئے قادیان سے باہر آ کر نماز دہرالی۔یہ امر پوشیدہ نہیں کہ آپ جیسے عالم کو علمائے وقت کے فتویٰ کا پہلے ہی علم ہوگا۔دراصل بٹالہ آکر ہی انہوں نے پیر صاحب کے کہنے پر اور علماء کے فتویٰ کا ذکر کرنے پر نماز دہرائی ہوگی۔آپ کے بیان میں یہ ذکر ہے کہ سوائے استخارہ کی بات کے باقی سارے امور میں نے پیر صاحب کو سنادیئے تھے۔گویا نماز پڑھنے والی بات بھی سنائی ہو گی۔خلاصہ یہ کہ مکرم و بنیس صاحب کے بیان میں خفیف سا سہو ہے۔جو نا قابل توجہ ہے۔واضح انکشاف بذریعہ رویا ہوا جس میں حضرت اقدس یا فرشتہ سے یہ آواز سنی کہ جس نے آنا تھا آ گیا۔اس پر زور اور مؤثر آواز کی تاثیر دل نشین ہوگئی اور شک وو ہم کی ساری تاریکی دور ہوگئی لیکن پھر مخالفانہ کتاب کے مطالعہ نے دل پر اثر کیا اور دوستوں اور شاگردوں کی رؤیا نے میرے یقین کو ترقی دی۔مولوی راجیکی صاحب نے بتایا کہ میں نے گیارہ بار آنحضرت صلعم سے حضرت مرزا صاحب کی صداقت سنی ہے ایسے دوستوں کی ایسی رویائے صادقہ نے میرے یقین کی امداد فرمائی تو میں نے بیعت کر لی۔باوجود حضرت مولوی صاحب کے اس اقرار کے قاضی صاحب مولانا راجیکی صاحب کی بیعت حضرت مولوی صاحب کی بیعت سے تین سال