اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 146 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 146

۱۴۷ لے آئے لیکن موصوفہ کی بیماری زیادہ سے زیادہ ہوتی چلی گئی۔چنانچہ حضور کی واپسی کے دس گیارہ دن بعد وہ وفات پاگئیں۔انا للہ و انا الیه راجعون۔حضور کو بہت بڑا صدمہ پہنچا کیونکہ حضور کو ان کے وجود کے ساتھ مستورات کی علمی ترقی وابستہ نظر آتی تھی۔ایسے حال میں مجھے حضور کے صدمہ کو کم کرنے اور صحت کو بحال رکھنے کی کافی کوشش کرنا پڑی۔“ والدہ کی وفات کے بعد میاں خلیل احمد صاحب نہایت نحیف تھے۔ان کا وزن صرف ساڑھے تین پونڈ تھا۔اپنی نانی جان کے ہاں ان کے منشاء کے مطابق چلے گئے۔عزیزہ قدیر بنت میاں رحمت اللہ صاحب سنوری ( ولد حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری) ان کے لئے دودھ پلائی اور نگہبان مقرر ہوئیں اور یہ عاجز بلحاظ طب کے خادم مقرر ہوا۔مجھے کم از کم ایک بار اور بعض دفعہ تین بار تک میاں صاحب موصوف کو دیکھنے کے لئے حضرت خلیفۃ اسبح اول کے مکان میں جانا پڑتا اور یہ سلسلہ دو سال تک جاری رہا۔یہ عجیب بات ہے کہ سفر یورپ کے دوران پیرس میں میں نے رویا دیکھا تھا کہ حضرت خلیفہ اول درس قرآن کریم دے کر مسجد اقصیٰ قادیان سے اپنے گھر کو واپس آنے لگے ہیں تو حضور نے مجھے اپنی بغل میں دبا لیا ہے اور اس حالت میں اپنے مکان کے اندر پہنچ کر مجھے صحن میں چھوڑ دیا ہے۔سو یہ رویا اس رنگ میں پوری ہوئی۔شادی اور وفات سیّدہ ام طاہر سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ سے فروری ۱۹۲۱ء میں شادی ہوئی۔نکاح فجر کی نماز کے بعد ہوا۔اسی روز نماز فجر سے قبل ڈاکٹر صاحب بیدار ہوئے تو آپ کی زبان پر یہ اشعار جاری ہوئے۔دل مرا کیوں آج پھر مسرور ہے رنج و غم اس۔اس سے ہوا سب دور ہے صبح دم وقت سحر سے وقت طلوع نور سے آکر ملا اک نور ہے ہو رہا ہے حسنِ یوسف کا ظہور وقت وقت طور ہے لا جرم یہ