اصحاب احمد (جلد 8) — Page 145
۱۴۶ خاتون کو جو سیدہ امتہ الحی صاحبہ مرحوم کی سہیلی تھیں اپنے نکاح میں لانے کے لئے سلسلہ جنبانی کی۔غالباً اسوقت جب کہ تجویز قریباً پختہ ہو گئی تو حضور نے اچانک مجھے بھاگلپور جانے کا ارشاد فرمایا اور پہنچ کر محترمہ سارہ بیگم صاحبہ ( دختر حضرت مولا نا عبدالماجد صاحب کی ) صحت جسمانی معلوم کرنے کا ارشاد فرمایا لیکن مجھ پر روشن نہ تھا کہ یہ معائنہ صحت کس غرض سے کروایا جارہا ہے میں مارچ یا اپریل ۱۹۰۵ء میں بھاگلپور پہنچا اور صحت کے اچھا ہونے کی رپورٹ دیدی۔چنانچہ چند روز بعد ہی حضور نے اپنے نکاح کا اعلان فرما دیا۔حضور کی دعوت ولیمہ کا انتظام میرے سپر دہوا۔ولادت مرزا حفیظ احمد صاحب ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں: ۱۹۲۵ء میں جب رات کے درمیانی حصہ میں صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب سلمہ اللہ کی پیدائش ہوئی۔اس وقت حضور نے مجھے اپنے پاس بلالیا کہ ڈاکٹر کا پاس ہونا مفید ہوتا ہے۔جب خیریت سے پیدائش ہوگئی اور میں نے اپنے گھر جانے کی اجازت مانگی تو فرمایا یہیں سو جاؤ۔حضرت صاحب کے سونے کا کمرہ تو دراصل وہ تھا جہاں حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ تھیں۔جہاں میاں حفیظ احمد صاحب کی پیدائش ہورہی تھی۔اس وجہ سے اس شب دوسرے کمرہ میں جو چھوٹے زینہ کے ساتھ ہے۔حضور کا بستر زمین پر فرشی دری پر بچھا ہوا تھا اور فراخ تھا۔لحاف بھی بڑا تھا۔اس لئے حضور نے اپنے ساتھ ہی سلالیا۔“ پرورش مرزا خلیل احمد صاحب ” بوقت وا پسی از یورپ عدن میں بذریعہ تار حضور کو صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب کی ولادت کی خوشخبری ملی۔میں نے بے تارو برقی کے ذریعہ صاحبزادہ صاحب موصوف کی والدہ ماجدہ کو مبارکباد بھیجی۔آگرہ میں حضور کو سیدہ امتہ الحی صاحبہ والدہ صاحبزادہ صاحب موصوف کی شدید علالت کی وجہ سے قادیان جلد پہنچنے کا تاکیدی تار ملا کہ آگرہ میں ایک دن کا قیام ملتوی کر کے حضور قادیان آجائیں۔حضور نے اپنا تو پروگرام تبدیل نہ کیا۔البتہ خاکسارکوفوراً قادیان روانہ فرما دیا۔چنانچہ میں حضور سے قریباً تمیں گھنٹے پہلے قادیان پہنچ گیا اور اگلے روز حضور تشریف