اصحاب احمد (جلد 8) — Page 139
۱۴۰ صاحب مغربی سید ولی اللہ شاہ صاحب کے دوست تھے۔ان سے میں نے پوچھا کہ وہ مینارہ کہاں ہے جس پر تمہارے نزدیک حضرت عیسی نے اترنا ہے۔کہنے لگے مسجد امویہ کا ہے لیکن ایک مولوی صاحب نے کہا کہ عیسائیوں کے محلہ میں ہے۔ایک اور نے کہا حضرت عیسی آکر خود بنائیں گے۔اب ہمیں حیرت تھی کہ وہ کونسا منارہ ہے۔دیکھ تو چلیں۔صبح کو میں نے ہوٹل میں نماز پڑھائی۔اس وقت میں اور ذوالفقار علی خاں صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تھے۔یعنی میرے پیچھے دو مقتدی تھے۔جب میں نے سلام پھیرا تو دیکھا سامنے منار ہے اور ہمارے اور اس کے درمیان صرف ایک سڑک کا فاصلہ ہے میں نے کہا یہی وہ منار ہے اور ہم اس کے مشرق میں تھے۔یہی وہاں سفید منارہ تھا اور کوئی نہ تھا۔مسجد امویہ والے منار نیلے سے رنگ کے تھے۔جب میں نے اس سفید مینارہ کو دیکھا اور پیچھے دو ہی مقتدی تھے تو میں نے کہا کہ وہ حدیث بھی پوری ہو گئی۔‘۲۷ خدمات سلسلہ بفضلہ تعالی آپ کو مالی قربانی بطور موصی کرنے کی توفیق حاصل ہے۔ایک دفعہ منارہ مسیح کے لئے خلافت ثانیہ میں چندہ کھولا گیا تو آپ نے رویا میں دیکھا کہ آپ کہتے ہیں کہ مجھ سے بذریعہ اقساط چندہ لے لیا جائے۔چنانچہ آپ نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں یہ رو یا لکھی اور ساتھ ہی پہلی قسط پانچ رو پید ارسال کی۔حضور نے اقساط منظور فرمالیں اس طرح اس مبارک چندہ میں آپ کو شامل ہونے کا موقع مل گیا۔۱۹۰۷ء میں اور پھر ۱۹۱۲ء سے ۱۹۱۸ء تک آپ جماعت احمدیہ پٹیالہ کے سیکرٹری رہے۔قادیان آنے پر آپ کو شفا خانہ نور قادیان کے انچارج کی حیثیت سے اس کو ترقی دینے کا موقع ملا۔آپ کے زمانہ میں اس کا زنانہ وارڈ قائم ہوا اور اپریشن روم کی بھی ترقی ہوئی۔آپ سالانہ مجلس مشاورت میں بھی شمولیت