اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 138 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 138

۱۳۹ جائیں گے اور میں ساتھ جاؤں گا میں چنانچہ ۱۲ جولائی ۱۹۲۴ء حضور مع قافلہ جس میں میں بھی شامل تھا روانہ ہوئے۔اس سفر میں فرعون مصر کی لاش ، احرام مصر نیز حضرت عمرو بن العاص کی تعمیر کردہ مسجد اور اٹلی میں اصحاب کہف کے غار دیکھے۔اللہ تعالیٰ کا ایک یہ فضل بھی مجھ پر ہوا کہ فرانس میں ایک رؤیا میں نے دیکھی جو صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب کی پرورش کی خدمات کے ذریعہ پوری ہوئی۔بمبئی سے جس بحری جہاز میں روانگی ہوئی اس کا ڈاکٹر ایک اطالوی میگلی نامی تھا اور مجھ سے اکثر ملتا رہتا تھا۔ایک روز ظہر وعصر کی نمازیں عرشہ پر حضور پڑھا کر جائے نماز پر ہماری طرف رُخ کر کے بیٹھ گئے۔جب کہ ہم بارہ کے بارہ انصار حضور کے سامنے بیٹھے تھے تو ڈاکٹر مذکور نے اس نظارہ کو بغور دیکھا اور پھر اشارہ کر کے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہنے لگا Jesus christ and twelve disciples۔(یعنی یسوع مسیح اور بارہ حواری) مجھے اس خدائی کرشمہ پر تعجب ہوا کہ ایک عیسائی اور وہ بھی اٹلی کا رہنے والا ہمارے امام کو عیسی اور خدام کو حواری قرار دینے پر مجبور ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی تھی کہ دمشق کے سفید مینارہ کے مشرق میں دو فرشتوں کے ساتھ مسیح موعود نزول فرمائیں گے اور حضرت مسیح موعود نے بھی تحریر فرمایا تھا کہ میں یا میرا کوئی خلیفہ دمشق کا سفر کرے گا۔ان دوفرشتوں میں سے ایک ڈاکٹر صاحب اور دوسرے حضرت مولوی ذوالفقار علی خان صاحب تھے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک تقریر میں اس بارہ میں بیان کیا کہ:- مینارۃ البیضاء کا بھی عجب معاملہ ہوا۔ایک مولوی عبدالقادر حضرت مولوی فضل الدین صاحب وکیل جو صحابی ہیں آجکل ربوہ میں قیام رکھتے ہیں اور پینشن حاصل کر چکے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کی اس خواب اور اطالوی ڈاکٹر کے قول کا ذکر ان کے مضمون مندرجہ الحکم مورخہ ۱۴ / ۷ مارچ ۱۹۴۰ء میں بھی ہے۔(مؤلف)