اصحاب احمد (جلد 8) — Page 137
۱۳۸ ابتدائی دو تین سال کے عرصہ میں حضور بسا اوقات میری جائے قیام پر تشریف لاتے اور گھنٹوں رونق افروز رہتے اور کبھی اپنی علالت کی وجہ سے مجھے اپنے پاس بلا لیتے۔ابتداء میں دو ماہ تک حضرت سیدہ ام ناصر نے ڈاکٹر صاحب کے ہاں اپنے ہاں سے ہی کھانا بھجوایا بعد میں بھی جب ڈاکٹر صاحب کے اہل و عیال پٹیالہ جاتے واپسی پر چار پانچ روز اپنے ہاں سے ہی کھانا بھجوا تیں۔اس عذر پر کہ ڈاکٹر صاحب اور ان کی اہلیہ صاحبہ کو صفائی وغیرہ کا موقع مل جائے۔حضور کے خاندان کے ڈاکٹر صاحب کے گھرانہ سے بہت ہی کریمانہ اور مشفقانہ اور ڈاکٹر صاحب کے حضور کے خاندان سے نہایت ہی خادمانہ اور والہانہ اور منکسرانہ تعلقات ہیں۔انہی تعلقات کے باعث اپنی بچی ثمینہ کی ولادت پر ڈاکٹر صاحب نے شملہ میں تمام حاضر افراد خاندان سمیت پچاس احباب کی دعوت کی خوشی حاصل کی اور ایک موقع پر کشمیر اپنے کنبہ کے آٹھ افراد کو لے گئے سفر و حضر میں ایسا قرب یقینا صدہا برکات کا موجب ہوتا ہے کیا سفر یورپ میں معیت۔دمشق والی پیشگوئی کا پورا ہونا غالباً ۱۹۱۷ء میں ہجرت سے قبل میری بیوی نے رو یاد یکھا کہ میں یورپ گیا ہوں۔۱۹۲۴ء میں جب حضور سفر لنڈن کی تجویز پر غور فرمارہے تھے تو خاکسار کو بھی استخارہ کا ارشاد فرمایا میں نے دعا شروع کر دی تو دوتین روز بعد میں نے رویا میں دیکھا کہ مولوی فضل الدین صاحب مشیر قانونی صدرا انجمن احمد یہ اسباب سفر باندھ رہے ہیں اور میں بھی ساتھ ہی تیاری میں مشغول ہوں اور مدد دے رہا ہوں۔میں نے حضور کی خدمت میں یہ رویا لکھ بھیجی اور یہ تعبیر بھی کہ حضرت فضل عمر سفر پر گذشتہ صفحات میں ۱۹۰۵ء کے سفر قادیان کوشتی چلاتے دیکھنے جملہ تنفیذ الاذہان لا ہور میں حضور کا کتب خرید نا ، اور لاہور میں ایک جلسہ کا ایک ذکر کیا گیا ہے۔یہ امور بالکل مختصراً الفضل مورخہ ۲۸-۱۲-۳۱ میں بھی مرقوم ہیں۔یہاں قلمی مضمون سے ایزادی کے ساتھ درج کئے ہیں۔اہلیہ محترمہ ڈاکٹر صاحب کے ایک مضمون مندرجہ الفضل ۸۸-۸-۳۰ سے بھی استفادہ کیا ہے۔(مؤلف)