اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 102 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 102

ہے آج رات کے کھانے کا انتظام اچھا نہ تھا کہ بعض مہمان بھوکے رہ گئے۔کسی کی بھوک عرش تک پہنچی ہے اور مجھے بشدت الہام کیا گیا۔"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعَتَرَّ یہ الہام رات کے دس بجے کے قریب ہوا تھا جس پر حضور والا نے باہر منتظمین کو کہلا بھیجا تھا کہ جن مہمانوں کو کھانا نہیں ملا ان کو کھانا کھلایا جائے۔اسی واسطے منتظمین میں سے کسی نے میرے دروازہ پر دستک دی تھی۔اگر چہ دوبارہ رات کے بارہ بجے لنگر کھلنے پر میرے سوا دویا تین احباب اور بھی تھے جنہوں نے اس وقت کھانا کھایا تھا۔مگر میں اپنے دل پر نظر ڈالتے ہوئے اور اپنے مولیٰ کے اوپر بیان کردہ سلوکوں کے پیش نظر بشرح صدر کہتا ہوں کہ یہ اسی دل کی آپ تھی جس نے عرش کو ہلایا اور بشدت الہام کروایا جس کی آہ جس کی گریہ و بکا اول تو پیارے مسیح کو خواب میں ملاقات کے لئے مسجد پٹیالہ میں لے آئی۔پھر سفر قادیان ۱۹۰۵ء کے سامان بہم پہنچانے کے لئے اپنے مولیٰ کی غایت کو کھینچ لائی۔پھر جس کی خواہش نے مسجد اقصیٰ میں پیارے مسیح کو پاس لا بٹھایا کہ بدر مورخه ۹ / جنوری ۱۹۰۸ء ص ۳ پر جلسہ سالانه ۱۹۰۷ء کے کوائف میں مرقوم ہے کہ :- بعض مہمانوں کو ایک دن کھانا بہت دیر سے ملا۔روٹی کافی تیار تھی مگر جگہ تنگ تھی اور تھوڑے آدمی ایک وقت میں کھا سکتے تھے۔اس واسطے بہت دیر ہوگئی اور بعض مہمان بغیر کھانا کھانے کے سونے کے کمروں میں چلے گئے تو ان کو یہ انعام ملا کہ خود خداوند عالم نے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور براہ راست آسمان سے اللہ کے رسول کے پاس رات کو پیغام پہنچا کر اَطْمِعُوا الْجَائِعَ وَالْمُعَتَر۔بھوکے اور مضطر کو کھانا کھلا۔صبح سویرے حضور نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ رات کو بعض مہمان بھوکے رہے۔اسی وقت آپ نے ناظمان لنگر کو بلایا اور بہت 66 تاکید کی کہ مہمانوں کی ہر طرح سے خاطر داری کی جاوے اور ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔“ خاکسار مؤلف اصحاب احمد یہ عرض کرتا ہے کہ اس مطبوعہ رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ جگہ کی تنگی کے باعث بعض دوست کھانا کھائے بغیر سونے کے لئے چلے گئے اور یہ بھی پتہ لگا کہ حضور نے صبح کے وقت منتظمین کو مہمانوں کی خاطر داری کی تاکید کی۔لیکن چند صحابہ سے زبانی یا تحریری یہ علم ہوا ہے کہ حضور کے ارشاد پر رات ہی کو مہمانوں کو جو بھوکے رہ گئے تھے کھانا کھلایا گیا۔مؤلف