اصحاب احمد (جلد 8) — Page 99
میلان طبع کے باعث تجارت کو ہی ذریعہ معاش بنانا اور ملازمت کی قید سے بچنا مناسب جان کر دہلی سے کچھ اور بساط خانہ کی چیزیں منگوا کر اور ایک دکان کرایہ پر لے کر آپ نے جدو جہد شروع کر دی۔روپیہ بہت تھوڑا تھا۔جب چیزیں بک جاتی تھیں تو بار بار دہلی جانا پڑتا تھا۔ابھی یہ جد و جہد جاری ہی تھی کہ آپ کے والد ماجد ماہ اگست ۱۹۰۷ء میں وفات پاگئے۔گویا ڈاکٹر صاحب، اُن کی اہلیہ صاحبہ اور والدہ صاحبہ کے کھانے پینے کے اخراجات جو والد صاحب برداشت کرتے تھے وہ ڈاکٹر صاحب پر آن پڑے۔اس وجہ سے دکان کے کام میں بجائے ترقی کے تنزل شروع ہو گیا۔گو آپ کو ملازمت مل سکتی تھی کیونکہ آپ سیکنڈ ڈویژن میٹرک پاس تھے لیکن آپ کی غیرت نے ادھر کا رخ نہ کرنے دیا۔دینی غیرت کا ایک عجیب واقعہ ہے کہ جب آپ میٹرک پاس کر چکے تھے۔والد صاحب کافی بوجھ برداشت کر چکے تھے اور اب عمر رسیدہ ہو چکے تھے۔اس لئے ڈاکٹر صاحب اخراجات پورے کرنے کے لئے آمد پیدا کرنا چاہتے تھے لیکن روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے اور مال کم ہونے کی وجہ سے، بکری بھی کم ہوتی تھی۔ایسی تنگی ترشی کے وقت میں ایک احمدی دوست نے آپ سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں اپنے محکمہ میں آپ کو ملازم کرا دوں۔تو ڈاکٹر صاحب نے ان کو یہ برجستہ جواب دیا کہ موسم سرما میں دفتری اوقات دس بجے سے چار بجے تک ہوتے ہیں اور جمعہ کے روز چھٹی نہ ہونے کی وجہ سے آپ لوگ نماز جمعہ میں شامل نہیں ہو سکتے۔اس وجہ سے میں تو ایسی ملازمت پسند نہیں کرتا جس کی وجہ سے نماز جمعہ ہی ترک ہو جائے۔بہت سے لوگ آپ کی دکان کو کچی دکان سمجھ کر چیزیں خرید نے آتے لیکن خالی چلے جاتے اسی جد و جہد میں کئی ماہ گذر گئے آپ بیان کرتے ہیں کہ :- مارچ ۱۹۰۸ء میں مجھے خیال آیا کہ دکان میں آمدنی کچھ ایسی نہیں ہو رہی جس سے کچھ رقم نکال کر حضرت مسیح موعود کی خدمت میں بھیج سکوں تو میرے دل میں تحریک ہوئی کہ اس دکان میں جو کچھ عمدہ چیزیں تحفہ کے لائق ہیں کیوں نہ بطور تحفہ حضور کی خدمت میں بھیجدوں۔میں اپنے رب محسن کا بے حد شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے اس ناچیز کے دل میں یہ خیال ڈالا اور اسے پورا کرنے کی توفیق دی۔چنانچہ سورت (بمبئی) کے بنے ہوئے چند بڑے بڑے رومال