اصحاب احمد (جلد 8) — Page 100
1+1 جو دستر خوان کا کام دے سکتے تھے اور چند چھپے ہوئے تہ بند اور ایک قیمتی ترکی ٹوپی بذریعہ پارسل ڈاک میں بھیجد یں۔جو حضور کو وصول ہو گئیں۔مجھے اپنے اس ناچیز عمل کی اب تک خوشی محسوس 66 ہوتی ہے کیونکہ حضور اس کے صرف دو ماہ بعد ہم سے جُدا ہو گئے۔“ دوسری بار زیارت بر موقع جلسہ سالانہ ۱۹۰۷ء آپ بیان کرتے ہیں کہ اس نار عشق کا شعلہ پھر بھڑ کا جس نے دوسال بعد ۱۹۰۷ء میں بموقع جلسہ سالانہ مجھے اپنے محبوب کے پاس پہنچا دیا۔جہاں میرے جیسے سینکڑوں دیوانے موجود تھے۔ایک سے ایک بڑھ کر اس نور کے پتلے پر فدا نظر آتا تھا۔جہاں مجھے اپنی بے مائیگی صاف صاف نظر آنے لگی اور اپنا عشق بیچ معلوم ہونے لگا مگر وہ دادار جس کی نظر دلوں پر ہے ہر دل کی کیفیات کو خوب جانتا ہے۔“ میرے دل نے خواہش کی کہ حضور سیدنا مسیح پاک کو دور سے تو دیکھ لیا ہے مگر نزدیک بیٹھ کر دیکھنے کا موقع مل جائے تو کیا ہی خوش قسمتی ہے۔ابھی اس خیال ہی میں مسجد اقصیٰ کے آخری حصہ میں نماز جمعہ کے انتظار میں بیٹھا تھا کہ وہ چاند سے مکھڑے والا خوشبو سے معطر دلبر آتا ہے اور عین میرے اور میرے بھائی حافظ ملک محمد صاحب کے سامنے بیٹھ جاتا ہے اور میں شکر مولیٰ میں لگ جاتا اور حیرت میں پڑ جاتا ہوں کہ یہ ناچیز بندہ اور یہ انعام الہی۔یہ میرے دل کی خواہش تھی یا بجلی کی تار تھی کہ جس نے بندہ نواز کے دل پر اثر کیا اور بندہ کے پاس لا بٹھایا۔مجھے اس جلسہ میں حضرت اقدس کی دونوں روز دونوں تقاریر سننے کا موقع ملتا ہے۔ایک روز حضور سیر کے لئے قصبہ سے باہر تشریف لے جاتے ہیں اور بالا رادہ بڑے بازار میں سے اپنے گرد بھیٹر سمیت باہر چلے جاتے ہیں تا کہ قادیان کے ہندوں ساکنین کو یہ نظارہ دکھلایا جائے کہ یہ چھوٹا سا گاؤں اور یہ جم غفیر اور یاد کرایا جائے کہ حضور کا الہام يا تُونَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيقٍ ا یسی صداقت کے ساتھ پورا ہو گیا ہے۔جہاں یہ دل عشق محبت سے بھر پور تھا وہاں عاجز ومسکین بھی تھا۔۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۰۷ء کا واقعہ ہے کہ صبح کے آٹھ بجے کھانا کھانے کے بعد یہ عاجز جلسہ میں تقریروں کے سننے میں لگ گیا۔