اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 90 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 90

۹۱ وو دونوں بھائیوں کے اسماء روئیداد جلسہ جو بلی میں اسمائے حاضرین میں یوں مرقوم ہیں :- ۸۷- محمد یوسف صاحب خراطی // ( سکونت ریاست پٹیالہ) (ایک پیسہ) ۸۸- حافظ ملک محمد صاحب 66 (آدھ آنه) “ یه اجتماع ۲۰ /جون تا ۲۲ جون ۱۸۹۷ء ہوا تھا۔حضور تحریر فرماتے ہیں کہ :۔ان تمام دوستوں کے نام درج کئے جائیں گے جو تکالیف سفر اٹھا کر اس جلسہ کے لئے قادیان میں تشریف لائے اور اس سخت گرمی میں اس خوشی کے جوش میں مشقتیں اٹھا ئیں۔یہاں تک کہ بباعث ایک گروہ کثیر جمع ہونے کے اس قدر چار پائیاں نہ مل سکیں تو بڑی خوشی سے تین دن تک اکثر احباب زمین پر سوتے رہے۔جس اخلاص اور محبت اور صدق دل کے ساتھ میری جماعت کے معزز اصحاب نے اس خوشی کی رسم کو ادا کیا میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ میں بیان کرسکوں۔(ص۴۳) یہ چندہ غرباء کی دعوت وغیرہ کے لئے جمع ہوا تھا۔(ص۶) حافظ صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد میں متعدد بار قادیان گیا لیکن اب واقعات یاد نہیں۔صرف چھوٹی مسجد میں نماز پڑھنا یاد ہے۔جس میں ایک صف میں بمشکل چھ آدمی کھڑے ہو سکتے تھے اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نماز پڑھایا کرتے تھے۔آپ کی خوش الحانی اور آواز کی بلندی بے نظیر تھی۔مہمان خانہ میں بعض سوئے ہوئے مہمان جاگ اٹھتے اور نمازوں میں شامل ہو جاتے تھے۔نیز آپ بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۰۷ء کے جلسہ سالانہ پر مجھے اور بھائی محمد یوسف صاحب اور چھوٹے بھائی ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو قادیان آنے کا موقع ملا۔ہم پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ ہم اپنے گھر سے اس گاڑی سے بارہ گھنٹے پہلے روانہ ہو گئے۔جس گاڑی پر پٹیالہ سے راجپورہ اور راجپورہ سے امرتسر تک جایا کرتے تھے۔اس لئے بفضلہ تعالیٰ ہم اس حادثہ سے بچ گئے۔جو کہ دوٹرینوں کے تصادم سے لد ہو وال اسٹیشن کے قریب ہوا تھا۔اس جلسہ سالانہ میں جمعہ کی نماز کے لئے مسجد اقصیٰ میں پچھلی صف قبر کے قریب ہم تینوں بھائی بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک جمعه ۲۷ دسمبر ۱۹۰۷ء کو تھا۔(مؤلف)