اصحاب احمد (جلد 8) — Page 84
۸۵ لئے ملازمتیں مفقود ہوگئی تھیں اور ان کی معاشی اور اقتصادی حالت حد درجہ تنگ ہو گئی تھی۔اس لئے مولی بخش صاحب کو والد ماجد نے بہادر گڑھ کے قیام کے ایام میں حصول روزگار کے لئے خرادی کا کام سکھلا دیا۔ڈاکٹر صاحب محترم آپ کے پوتے ( جن کو تیرہ سال کی عمر تک آپ کو دیکھنے کا موقع ملا ) حلفیہ بیان کرتے ہیں کہ آپ خوش شکل اور سفید رنگ کے بزرگ تھے علم دوست اور نماز با جماعت کے پابند تھے۔پنجاب سے جو علماء وعظ وغیرہ کے لئے آتے۔آپ کا باقاعدہ شغل یہ تھا کہ ان کا وعظ کرواتے اور ان کی مہمان نوازی کا اہتمام کرتے۔آپ کسب حلال کا خاص خیال رکھتے اور کسی مشکوک روپیہ کو ہاتھ نہ لگاتے تھے۔مولی بخش صاحب کے دو بیٹے ۱۸۹۴ ء اور ۹۶ - ۱۸۹۵ء میں احمدیت قبول کر چکے تھے اس کی تفصیل ان کے ذکر میں آگے آئے گی ) مولوی عبد القادر صاحب جمالپوری (والد مکرم حکیم محمد عمر صاحب ربوہ ) کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے اپنے ہاتھ پر بیعت لینے کی اجازت تھی۔چنانچہ پٹیالہ میں ۱۸۹۹ء میں مولی بخش صاحب اور آپ کے بیٹے رحیم بخش صاحب ( والد ڈاکٹر صاحب محترم) نے بیعت کی۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ اس بیعت کے وقت میں بھی موجود تھا۔میری عمر بارہ سال کی تھی۔ضعیف ہونے کی وجہ سے مولا بخش صاحب حضرت مسیح موعود کی زیارت نہ کر سکے اور ۱۹۰۰ء میں بعمر ۷۵ یا ۷۶ سال وفات پائی۔۱۸۹۹ء میں آپ کے بیعت کر لینے پر فورا ہی آپ کے خاندان کی تین پیشنیں احمدیت میں شامل ہو گئیں اور ایسا فضل الہی ابتداء احمدیت میں کسی خاندان کو شاذ و نادر ہی حاصل ہوا ہے۔ذالک فضل الله يـوتيــه من يشآء۔آپ کی سب اولا د بفضلہ تعالیٰ احمدیت کے دامن سے وابستہ ہے۔آپ کے بڑے بیٹے کریم بخش صاحب نے خلافت ثانیہ میں ۱۹۲۴ء میں بیعت کی۔بہت سادہ طبیعت کے مالک تھے۔نماز با جماعت اور روزوں کے پابند تھے۔ملکی روش کی وجہ سے تعلیم حاصل نہ کر سکے۔نہ ہی آپ کی کوئی اولادتھی۔آپ نے قادیان میں وفات پائی اور سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ آپ کے جنازہ کے ساتھ قبرستان تک گئے۔مرحوم