اصحاب احمد (جلد 8) — Page 83
۸۴ صاحب نے اپنی پانچ چھ سال کی عمر میں دیکھا۔نوے سال سے زیادہ عمر پائی۔نہایت معتدین خاتون تھیں اور اپنے محلہ میں بزرگ خاتون کے طور پر مشہور تھیں۔محلہ بلکہ دُور دُور کی مستورات اپنے بچوں کو دعا اور علاج کے لئے آپ کے پاس لاتی تھیں۔سرہند شریف سرہند شریف میں ایک عظیم الشان مجدد حضرت احمد مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ ہوئے ہیں۔اس شہر کی تعمیر کا واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ یہ مقام جو اس وقت جنگل اور بھیڑیوں اور چیتوں کی جگہ تھی۔اس میں سے شاہ وقت فیروز شاہ تغلق کا خزانہ گذر رہا تھا کہ ایک بزرگ کو کشف سے معلوم ہوا کہ یہاں گیارہویں صدی کا عظیم الشان مجدد پیدا ہوگا۔چنانچہ اس کشف کا علم بادشاہ کو اور ان سے اُن کے پیر حضرت مخدوم جہانیاں کو ہوا۔جن کے حسب منشاء بادشاہ نے اس مقام پر قلعہ اور شہر کی تعمیر کا حکم اپنے وزیر کو دیا۔وزیر کے بھائی امام رفیع الدین اس کام کی سرانجام دہی کے لئے مقرر ہوئے۔کام میں امداد کے لئے حضرت شاہ شرف بوعلی قلندر بھی آگئے اور انہوں نے بتایا کہ میں نے اس کام کی مخالفت اس لئے کی تھی کہ یہ کام آپ کے سپر دہو کر مہتم بالشان رنگ میں سرانجام پائے اور آپ یہاں آباد ہوں اور آپ کی اولاد میں سے بزرگ مجدد کے پیدا ہونے کی پیشگوئی پوری ہو۔چنانچہ سرہند کا انتظام امام رفیع الدین صاحب کے ہی سپرد ہوا اور ستائیس صحیح النسب قبیلے قریش کے وہاں آباد ہوئے اور ہزاروں گھرانے مغلوں اور پٹھانوں کے۔یہاں کے لوگ باعتبار شرافت و نجابت بہت معز ز شمار ہوتے تھے۔حضرت مجدد صاحب نے اپنے مکتوب میں اس زمانہ کے لحاظ سے یثرب و بطحا کے بعد سرہند کی سرزمین کا درجہ قرار دیا ہے اور اپنے مکاشفہ سے ہندو قوم میں معبوث ہو چکے بعض انبیاء سابقہ کے مقابر سر ہند کے قریب دریافت کئے۔مولی بخش صاحب اور آپ کے خاندان میں احمدیت کا آغاز احمد خاں صاحب کے فرزند کا نام مولی بخش تھا۔غدر سے موسوم زمانہ میں مسلمانوں کے