اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 64 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 64

۶۴ لڑکیاں پردے میں بیٹھتی تھیں اور لڑکوں کے ہائی سکول کے اساتذہ پڑھاتے تھے۔بہت سے تجارب کے بعد میں اس میں کامیاب ہو گیا کہ لڑکیاں پردے میں بیٹھ کر پڑھ سکیں۔تین سال سیکشنوں والا انتظام جاری رہا۔اس کے بعد ایک ہندوانسپکٹر مدارس آ گیا۔جس نے لڑکوں کے سکول کے ساتھ لڑکیوں کے سیکشن رکھنے نامنظور کر دیئے۔اس پر میں نے مستقل طور پر لڑکیوں کا ہائی سکول جاری کر دیا۔محترمہ امۃ العزیز صاحبہ جو ایف-اے-ہے-اے-وی پاس تھیں۔ملازمت میں لے لیں (جواب ربوہ میں ہیڈ مسٹریس ہیں ) بعد ازاں صدر انجمن احمدیہ نے حکیم محمدعمر صاحب والی شاندار عمارت خرید لی اور نصرت گرلز سکول اس میں منتقل ہو گیا۔یہاں میں نے ایف۔اے اور پھر بی۔اے کی کلاس کھول لی اور ٹیچر دوستوں سے وقت لے کر اور کچھ خود پڑھا کر ایف۔اے اور پھر بی۔اے کلاس بھی مکمل کر لی اور ان کے امتحانات کے لئے قادیان میں سنٹر کھلوالیا۔بی۔اے کا امتحان یہاں کی طالبات کا میرے زمانہ کارکردگی میں ایک بار ہوا تھا۔اس کے بعد میں ریٹائر ہو گیا۔جس کے بعد کالج کی کلاسیں بند ہو گئیں۔اب حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی توجہ سے ربوہ میں ہائی سکول کے علاوہ بی۔اے تک گرلز کالج بھی جاری ہوا ہے۔جو خوب کامیابی سے چل رہا ہے اور اس کی منتظمات میرے پرانے کالج کی طالبات ہیں۔فالحمد للہ علی ذالک۔فالحمد للہ علی ذالک دعاؤں کی قبولیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ناقابل تردید معجزہ یہ ہے کہ حضور نے اپنی جماعت میں ایک بے پناہ یقین دعاؤں میں اور ان کے قبول ہونے میں پیدا کر دیا ہے اور اس دجالی فتن کے زمانہ میں ایسا ایمان و ایقان پیدا کرنا الہی تائید کے سوا ہر گز ممکن نہیں۔چوہدری صاحب فرماتے ہیں کہ بیعت کرنے سے قبل مجھے شاذ ہی رویائے صادقہ ہوتی تھیں لیکن بعد بیعت بکثرت ہونے لگیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے اثبات کے لئے مجھے کسی دلیل کی ضرورت نہ رہی۔مجھے جب بھی کوئی تکلیف ہوئی ہے حضرت مسیح موعود خواب میں آئے ہیں اور مجھے تسلی دی ہے۔