اصحاب احمد (جلد 8) — Page 63
۶۳ کام بالآ خر چل نہ سکا۔جس کا مجھے افسوس ہے۔اس کا باعث یہ امر ہوا تھا کہ میں سٹور سے الگ ہو گیا تھا اور دوسرے لوگ تجارت کے کام سے واقف نہ تھے۔میں اس لئے اس کام سے الگ ہو گیا کہ یہ کام بہت بڑھ گیا تھا اور پورا وقت چاہتا تھا لیکن سکول والے مجھے نہیں چھوڑتے تھے۔مجھے اس کام کی طرف منتقل کیا جا سکتا تھا لیکن جو صاحب اس بارہ میں سٹور کے افسر تھے انہوں نے ایسا نہ کیا۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ جماعت احمدیہ کی اجتماعی رنگ میں یہ پہلی کوشش تھی اور جہاں تک مجھے علم ہے بظاہر نقصان کے باوجود یہ ایک مفید تجربہ تھا جس سے اس میں کام کرنے والوں اور دیکھنے والوں نے تجربہ کے رنگ میں بہت فائدہ اٹھایا اور آئندہ زندگی میں ان کے کام آیا۔نصرت گرلز ہائی سکول کی کالج تک ترقی ! نصرت گرلز ہائی سکول اور کالج اس وقت ربوہ میں اعلیٰ پیمانہ پر جاری ہیں۔ان کی ترقی کے مراحل سلسلہ کی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔اس سلسلہ میں چوہدری صاحب بیان فرماتے ہیں کہ:- ۱۹۳۵ء میں مجھے نصرت گرلز سکول میں ( بطور مینجر منتقل کر دیا گیا۔اس وقت پڑھائی کا تسلی بخش انتظام نہ تھا۔لڑکیاں برقع پہن کر بیٹھی ہوتی تھیں اور حافظ صوفی غلام محمد صاحب سابق مبلغ ماریشس کتاب پڑھ کر ترجمہ کر دیتے تھے اور لڑکیاں برقعوں کے اندر کتا ہیں دیکھتی جاتی تھیں اور کبھی کسی لڑکی سے کتاب نہ پڑھواتے تھے۔ایسی حالت میں پڑھوانا ممکن نہ تھا۔شاف میں صرف ایک ٹرینڈ استانی تھی اور عمارت بھی سخت خراب تھی۔کچے فرش والے چھوٹے چھوٹے کمرے تھے۔جن میں ہوا کی آمد ورفت کا کوئی انتظام نہ تھا۔میں نے سوچا کہ مدرسہ کی حالت اچھی نہیں ہو سکتی جب تک اچھی عمارت اور تربیت یافتہ استانیاں نہ ہوں۔اس زمانہ میں ایسی استانیاں کمیاب تھیں۔سو اس کمی کو پورا کرنے کے لئے مدرسہ کو مڈل سے ہائی بنانے کی تجویز کی اور اس کے لئے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے نزدیک ایک عمارت کرایہ پر لی اور حضرت مولوی محمد دین صاحب ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ( حال ناظر تعلیم ربوہ ) کے مشورہ سے اور انسپکٹر مدارس کی اجازت سے لڑکیوں کی ہائی کلاسز لڑکوں کے ہائی سکول کے سیکشن کے طور پر بنادیں۔