اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 59 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 59

۵۹ کسی اور مسئلہ سے جماعت میں فساد پیدا ہونے کا خطرہ ہو تو میرا حق ہوگا کہ آپ کو اس کے بیان کرنے سے منع کر دوں۔میں نے عرض کیا کہ خلیفہ کی ضرورت جماعت کے انتظام کے لئے ہے اور اس کا فرض ہے کہ جماعت میں تمام مفسدانہ تحریکات سے روکے۔میں مصنف نہیں ہوں اور نہ ہی میں ایڈیٹر یا وعظ ہوں۔اس لئے مجھے اس کے بیان کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے گی اور اگر آپ حکم دیں گے کہ میں دوستوں میں بھی اس کا ذکر کبھی نہ کروں تو میں وہ بھی نہیں کروں گا اور ممکن ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد مجھے اس مسئلہ کو سمجھ ہی آجائے۔اس کے بعد آپ نے ہماری بیعت لے لی۔بعد ازاں ۱۲ / اپریل ۱۹۱۴ء کو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق شوریٰ کا اجلاس خلافت کے استحکام کے لئے منعقد ہوا اور اس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مجلس معتمدین کی خدمت میں ذیل کاریز ولیوشن بذریعہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب وغیرہ پیش کیا جائے اور اس کی ایک نقل مجلس کے سیکرٹری کو دی جائے کہ آئندہ کے اجلاس میں اسے پیش کریں۔ریزولیوشن یہ تھا کہ قواعد صدرانجمن کی دفعہ ۱۸ میں الفاظ ” حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جگہ الفاظ حضرت خلیفہ اسی مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی درج کئے جائیں۔اس اجلاس کی اہمیت کے متعلق گذشتہ جلدوں میں تفصیل دی جا چکی ہے۔اس اجلاس میں قادیان اور بیرون کے ایک سو نوے نمائندگان شامل ہوئے تھے۔نمبر ۱۵۹ پر محترم چوہدری صاحب کا نام یوں درج ہے:- چوہدری غلام محمد صاحب بی۔اے سپر نٹنڈنٹ بورڈنگ ہاؤس۔ہائی سکول- قادیان “ !! خلافت ثانیہ کے عہد مبارک کا ایک عجیب واقعہ آپ بیان کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شدید مصائب میں اللہ تعالیٰ کس طرح دعائیں سنتا اور دستگیری فرماتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ خلافت ثانیہ کے آغاز میں ایک گریجویٹ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں تھرڈ ماسٹر اس کا ایک حصہ منشی محمد اسمعیل صاحب کے حالات میں ان کی زبانی ( اصحاب احمد جلد اوّل ص۱۸۵ پر درج ہے۔(مؤلف)