اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 52 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 52

۵۲ لئے میں نے چوہدری مولیٰ بخش صاحب کو جن کا نام منارة امسیح کے کتبہ پر لکھا ہوا ہے کہا کہ میری بیعت کرا دیں۔انہوں نے حضور کو رقعہ لکھ کر اندر بھیجا۔حضور نے فوراً مجھے اندر بلالیا۔آپ نے دستِ مبارک میں میرا ہاتھ لے کر میری بیعت لے لی۔الحمد للہ علی ذالک۔“ اس جلسہ پر میں نے حضرت مسیح موعود کی دو تقریریں سنی تھیں۔ایک نئے مہمان خانہ میں اور دوسری نماز جمعہ کے بعد آریوں کے متعلق۔مزید تعلیم بیعت کرنے کے بعد آپ کا یہ خیال تھا کہ آپ بی۔اے پاس کرنے کے بعد قادیان چلے جائیں گے اور باقی زندگی وہیں گزاریں گے اور حضور کے حکم کے ماتحت جو خدمت ہو سکے گی کریں گے۔بیعت کے بعد پھر بھی آپ کو دو دفعہ قادیان جا کر حضور کی زیارت سے مشرف ہونے کا موقع ملا۔ایک دفعہ آپ چوہدری نذیر احمد صاحب ایم۔اے ایل ایل بی سیالکوٹی کے والد ماجد ماسٹر سردار خان صاحب کے ہمراہ گئے تھے۔چونکہ حضور کو اپنی وفات کے متعلق الہام ہو رہے تھے۔اس لئے آپ نومبر ۱۹۰۷ء میں نوکری سے استعفا دے کر علی گڑھ کالج میں بی۔اے کالج میں داخل ہو گئے۔مئی ۱۹۰۸ء میں حضور کے وصال کی خبر سے آپ کو بہت صدمہ ہوا۔اور آپ نواب وقار الملک کے پاس گئے جو اس وقت کا لج کمیٹی کے سیکرٹری تھے اور ان سے کالج کو بند کرنے کی درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ مجھے مرزا صاحب کی وفات کا بہت افسوس ہے۔میں نے آپ سے عربی کی صرف و نحو پڑھی تھی مگر میں کالج بند نہیں کر سکتا۔کیونکہ کالج کے بند کرنے کی شیعہ ممبر مخالفت کرتے ہیں۔تاہم انہوں نے دوسرے دن احمدی طالب علموں کے لئے چھٹی کا نوٹس لگا دیا۔ہجرت قادیان ۱۹۰۹ء میں جب آپ نے بی۔اے کا امتحان پاس کر لیا تو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان